Friday, 17 June 2022

جدید ٹیکنالوجی اورنظام جہان نو

میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ مغربی ممالک کو کس بات کا احساس برتری  ہے 

 لیکن اس سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ تیسری دنیا کے صدیوں تک محکوم رہنے والے لوگوں کو اب تک ان  زبردستی کے قابض ،لوٹ کھسوٹ کرنے والوں سے کس بات پر احساس کمتری محسوس ہوتا ہے ؟

کیا اب تک ان کے دماغ  خود کو غلام اور انہیں آقا تسلیم کرنا نہیں چھوڑ رہے ؟

شائد اس کی بڑی وجہ  وہ نو آبادیاتی نظام ہے جو  بلواسطہ طور پر ان غریب اور پسماندہ سمجھے جانے والے ممالک میں اب تک قائم ہے اور ان ممالک کی سادہ لوح عوام اب تک اس حقیقت سے بے خبر ہے کہ وہ اب بھی سامراج کی غلام ہے - یوں کہ لیجئے کہ در اصل معاشی غلام ہیں اور  ان کی معاشی اور کافی حد تک معاشرتی بدحالی کے پیچھے بھی یہی محرکات ہیں

نو آبادیاتی نظام سے مراد کسی ایک علاقے کے لوگوں کا دوسرے علاقے میں جا کر اپنی نئی آبادیاں قائم کرنا اور اردگرد کے علاقوں پر قبضہ کر کے اسے توسیع دینا ہے۔ جہاں یہ نوآبادی قائم کی جاتی ہے وہاں کے اصل باشندوں پر قابض گروہ عموماً اپنے قوانین، معاشرت اور حکومت بھی مسلط کر دیتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ قابض گروہ اور نوآبادی کے اصل باشندوں کے درمیان نا انصافی اور جبر پر مبنی ایک تعلق ہے جس میں اصل باشندوں کا استحصال ہوتا ہے۔

نوآبادیاتی نظام کے ساتھ ہمیں ایک اور اصطلاح ''سامراج''  سننے کو ملتی ہے- آئیں دیکھتے ہیں سامراج سے کیا مراد ہے

سامراج ہم ان سرمایہ دار ملکوں کو کہتے ہیں جنہوں نے اپنی لوٹ کھسوٹ کا بازار نہ صرف اپنے ملک کے سادہ لوح ،  بظاہرانکی اپنی نظر اور سوچ کے مطابق کمزور اور پسماندہ افراد کے وسائل اور صلاحیتوں کے  استحصال سے گرم رکھا بلکہ اس کو مزید وسعت دینے کے لئے    پوری دنیا کے کمزور ممالک تک اس نو آبادیاتی نظام کی بنیاد ڈالی۔

یہی وہ ممالک یا قومیں ہیں  جہاں سرمایہ دارانہ نظام سب سے زیادہ ترقی یافتہ شکل میں موجود ہے ۔ اور جہاں کا سرمایہ دار طبقہ نہ صرف اپنے ملک کے مزدوروں کو لوٹتا ہے۔ بلکہ دنیا کے تمام کمزور اور غریب ملکوں کے عوام کی لوٹ کھسوٹ سے اپنے خزانے بھرتا ہے۔ 

سامراجی ممالک، جیسا کہ انگلستان ، اسپین ، فرانس ، پرتگال اور ڈچ ریپبلک جو آج کل نیدر لینڈ اور جرمنی وغیرہ کہلاتے ہیں، اپنی اس لوٹ مار کو جاری رکھنے کی خاطر ان غریب ملکوں کے اندرونی سیاست میں دخل دیتے آئے  ہیں۔ اور ان کمزور ممالک کو مجبور کرتے ہیں  کہ وہ سامراجی پالیسیوں پر عمل درآمد کریں۔ اور عالمی سیاست میں ان کے آلہ کار کے طور پر کام کریں۔ اگر کوئی کمزور ملک ان کا حکم ماننے سے انکار کر دے تو وہاں دھمکیوں اور سازشوں سے کام لیتے ہیں۔ یا پھر اسٹیبلشمنٹ( فوج ) کے اندر اپنے ایجنٹوں کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹوا دیتے ہیں۔ اور اپنی مرضی کا حکمران ملک پر مسلط کر دیتے ہیں۔۔۔!

در اصل گوری چمڑی والےامریکی، آسٹریلین اور کینیڈین  بھی انگلستان سے ہی جا کر ایک طرح کی نو آبادی کو قائم  کر کے وہاں کے مقامی لوگوں کے تمام وسائل  اور صلاحیتوں پر  پوری طرح سے قابض ہو جانے والے انگریز ہی ہیں جنہوں نے مقامی باشندوں کا کروڑوں کی تعداد میں پہلے قتل عام جاری رکھا پھر ان پر ایسے قابض ہوئے کہ  آج تک مقامی لوگوں کا کوئی نام و نشان اگر نظر بھی آتاہے تو ناقابل ذکر ہوتا ہے

دنیا میں سامراج کی حیثیت ایسی ہوتی ہے۔ جیسی کہ کسی ملک کے اندر بڑے سرمایہ دار کی۔ جس طرح کسی ملک کے اندر سرمایہ دار طبقہ غریب، محنت کش، عوام پر ظلم کر کے ان کو کمزور بھوکا اور محتاج بنا دیتا ہے۔ اگر ہم پوری دنیا کو ایک ملک تصور کر لیں تو سامراج اس ملک کا سرمایہ دار طبقہ ہو گا۔ اور دنیا کے غریب ملک اس کے مزدور یا کسان یا مظلوم عوام ہوں گے۔

سامراجی کنٹرول  لوٹ کھسوٹ اور مقامی باشندوں کی نسل کشی کی تاریخ بھی اتنی ہی طویل اور قدیم ہے جتنی نوآبادیاتی نظام کی تاریخ مگر اس کو دنیا کی تاریخ سے غائب  کرنے اور مسخ کر کے پیش کرنے کا کام بھی بہت شدت سے جاری ہے تاکہ سامراجی قوموں کے اجلے چہروں پر بدنامی کا یہ داغ کسی نہ کسی طرح دھل سکے

پچھلی صدی کے وسط تک دنیا کے کئی ملکوں پر سامراج پرانے نو آبادیاتی طریقوں سے کنٹرول قائم رکھتا تھا۔ یعنی سامراج فوجیں ان ملکوں پر قبضہ کر لیتی تھیں۔ اور سامراج بذات خود ملک پر قابض ہو جاتا تھا۔ برصغیر پاک و ہند میں 1947 سے پہلے سامراج پرانے نو آبادیاتی طریقوں سے ملکوں پر اپنا تسلط قائم کرتا تھا۔ پرانے نو آبادیاتی نظام کے خلاف جب بغاوتیں شروع ہوئیں۔ تو سامراج نے اسکی جگہ جدید نو آبادیاتی نظام مسلط کیا۔ برصغیر میں تمام ممالک کو آزادی دی گئی۔ وہاں سے اپنے فوجیں اور حکمران واپس بلا لیے۔ اور ان کی جگہ اپنے مقامی ایجنٹ کو حکمران بنا دیا۔ جو سامراج کے حصہ دار بن گئے اور سامراج کی پالیسیوں کو اپنانے لگے۔ 1947 سے اب تک پاکستان اس کی بہترین مثال ہے۔ 

سامراج نے آزاد کردہ ملکوں کی لوٹ کھسوٹ کا نیا طریقہ متعارف کروایا۔ مثلاً پاکستان سمیت ایسے تمام سابقہ محکوم ممالک کو ملنے والی "نام نہاد امداد" مدد نہیں بلکہ قرض ہوتی ہے۔ اس میں لوٹ کھسوٹ مندرجہ ذیل طریقوں سے ہوتی ہے۔

1) ہمیں اس امداد پر سود دینا پڑتا ہے۔ جو ملک ایک مرتبہ اس سامراجی گیم میں پھنس گیا پھر اس سے نکلنا دشوار ہو جاتا ہے۔ اور سود ختم کرنے کے لیے مزید امداد کی ضرورت ہوتی ہے جو سامراج سے لینا پڑتاہے۔ 

2) اور سامراج سے جو قرض لیتے ہیں اس رقم سے صرف سامراج سے تجارت کی جا سکتی ہے اور کسی سے نہیں۔۔۔!

سامراجی ممالک چاہتے ہیں کہ ہم ہمیشہ ان کے غلام رہیں۔ اور کبھی اپنے پاؤں پر کھڑے نہ ہوں۔ سامراج دنیا کے غریب ممالک کا سیاسی نظام اپنے کنٹرول میں کرتا ہے۔ اور ان ممالک میں لوٹ کھسوٹ کا سیاسی نظام چاہتا ہے۔ اور وہ ہر طرح کی محب وطن، عوام دوست، اور ترقی پسند تحریکوں کی مخالفت کرتا ہے۔ اس مقصد کے لیے سامراج قدامت پرست سیاسی جماعتوں کو امداد دیتا ہے،یہاں تک کہ لسانی، ثقافتی اور مذہبی اعتقادات میں پوری طرح تربیت یافتہ ایجنٹ  تیار کر کے ان ممالک میں بنیادی دینی عقائد اور مقامی دینی، ادبی اور ثقافتی  شخصیات سے لوگوں کی سوچ کو متنفرکرنے کا کام بھی کرتا ہے -  تا کہ مقامی افرد اپنی ہی قوم ،اس کی  روایت ، ثقافت ،عقائد اور ان کی علمبردار شخصیات سےمتنفر رہیں، خود پر  بے یقینی اور شرمندگی محسوس کرتے رہیں  - سامراج رجعت پسند رسالوں، میڈیا اور اخباروں کی مدد کرتا ہے۔ اور یہ رسالے،میڈیااور اخبارات سامراجی نظام کی حمایت کرتے ہیں۔ اس طرح جدید نو آبادیاتی نظام کے تحت سامراج تمام دنیا کے غریب ممالک کو اپنے کنٹرول میں چلا رہا ہے۔۔۔!

اسے بلواسطہ یا نیا نوآبادیاتی نظام کہا جاتا ہے اور سامراجی سوچ کا کہنا ہے کہ

"ہم اپنی عالمی سیاسی طاقت زمین پر زبردستی قبضہ کر کے نہیں بڑھاتے۔ ہم اپنی طاقت بڑھانے کے لیے اب مہذب لوگوں کی طرح معاہدے کرتے ہیں، اتحاد بناتے ہیں، نگرانی کے نظام، تجارت اورکارپوریشن کے معاہدے کرتے ہیں، خفیہ معاہدے طے پاتے ہیں اور اہم ترین جگہ پر دہشت گردی سے نمٹنے کے بہانے قبضہ کرتے ہیں۔ ۔"

اس بلواسطہ نوآبادیاتی نظام کو آگے بڑھانے اور مزید مضبوط اور موثر کرنے کےلئے اسی ایک ہتھیار کا سہارا لیا جاتا رہا ہے جس کا استعمال شروع شروع میں میں براہ راست نوآبادیاتی نظام کے قیام اور پھر اسے قائم و دائم ، مضبوط اور موثر رکھنے کے لئے کیا جاتا رہا

یہ ہتھیار ٹیکنالوجی کہلاتا ہے جسے در اصل سامراج کو امیر سے امیر تر اور غریب عوام کو غریب سے غریب تر کرنے کے کام میں لایاجاتا ہے- مگر اس بات کو ہمیشہ یقینی  بنا کرکہ  عام آدمی اس جھانسے میں رہے کہ ٹیکنالوجی کو در اصل اس کی زندگی آسان بنانے کے لئے فراہم کیا جاتا ہے- عام آدمی یہی سمجھتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کو وہ استعمال کرتا ہے مگر دراصل وہ نہیں جانتا کہ ٹیکنالوجی تو اسے استعمال کرنے کے لئے بنائی گئی ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی خاص طور پر جدید آئی ٹی، انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل مصنوعات بہت آسانی سے لوگوں پر کنٹرول اور استحصال کے لئے استعمال کی جاسکتی ہے اور اس کی ایجاد اور فروغ ہی در اصل معاشی عدم  استحکام کی وجہ ہےاور اس کو حد سے زیادہ فروغ دینے کا کام الیکٹرانک، پرنٹ اور سوش  میڈیا کر رہا ہے

ان ماہرین کی بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے جدید رجحانات لوگوں کی اکثریت کو ایک مراعات یافتہ طبقے کے قدموں کی دھول کی طرح بنا دیں گے - بہت سے لوگوں کے  معیار ر زندگی میں نمایاں بہتری آئے گی لیکن اس سے بھی کہیں زیادہ لوگوں کی زندگی زبوں حالی کا شکار ہو جائے گی کیونکہ سیلیکون ویلی میں بیشتر جدید ٹیکنالوجی امیر طبقے کی ضرورتوں کو سامنے رکھ کر تیار کی جا رہی ہے

جدید ٹیکنالوجی کا یہ امڈتا ہوا سیلاب در اصل دنیا کی تعلیمی اور ملکی صلاحیت اور قابلیت کو للکار رہا ہے اور یہ سوال سامنے آ رہا ہے کہ '' کیا بیشتر نو آبادیاتی اور سامراجی قوتوں کے استحصال کا شکار ممالک اس قابل بھی ہیں کہ اس ٹیکنالوجی کو درست طور پر سمجھ کر اس کا صحیح استعمال کر سکیں ؟''- یقیناً  ایسا نہیں ہے کیونکہ تاریخ یہ بات بار بار ثابت کر چکی ہے - سامراجی قوموں نے اس سے پہلے بھی ٹیکنالوجی کی مدد سے ہی نوآبادیاتی نظام کو مستحکم  اور موثر بنایا اور اب بھی جدید بلواسطہ نوآبادیاتی نظام کو اسی ہتھیارکے استعمال سے مضبوط بنا رہے ہیں

نہایت افسوس کی بات ہے کہ ہم ڈیجیٹل سہولت یافتہ اور غیر سہولت یافتہ افراد سے بھری ہوئی دنیا کو دیکھ رہے ہیں جن میں سے اکثریت کو اس ڈیجیٹل اور جدید ٹیکنالوجی تک دسترس تو حاصل ہے مگر وہ امیر اور مراعات یافتہ طبقے کے مقابلے میں  بہت کم سہولیات اور فوائد حاصل کر سکتے ہیں- جس سے معاشرتی اور معاشی عدم استحکام پیدا  ہو رہا ہے اوردنیا بھر کی آبادی کی اکثریت، بے چینی ، بے راہ روی، عدم اعتمادی کے ساتھ ساتھ ذہنی الجھنوں کا شکار ہو کر دماغی امراض


اور انتہا پسندی کی طرف مائل ہو رہی ہے 

نیو یارک یونیورسٹی کی دوراندیش حکمت عملی (اسٹریجیک فورسائٹ) کی ایک پروفیسرایمی ویب جو ''فیوچر  ٹوڈے'' (یعنی آج کا مستقبل ) نامی مشہور ادارے کی بھی  بانی ہیں، کہتی ہیں کہ '' دنیا میں جدید ترین ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی 9  بڑی کمپنیاں ہیں جن کو میں ''بگ نائن'' کہتی ہوں یہی وہ کمپنیاں ہیں جن کے ہاتھ میں انسانیت کا مستقبل ہے کیونکہ یہی کمپنیاں مستقبل کی مصنوعی ذہانت کو تشکیل دے کر مزید با صلاحیت اور بہت طاقتور بنارہی ہیں

ہم اپنی آزاد سوچ، انتخاب اور فیصلے کرنے کے حق کا سودا صرف سہولت حاصل کرنے کے نام پر کرتے چلے جا رہے ہیں اور جو بھی مختصر سی   فہرست  اپنے لئے کچھ منتخب کرنے کے لیے  فراہم کی جاتی ہے  جیسے کھانا کھانے کے لئے ریسٹورنٹس کی فہرست اور ان ہی ریسٹورنٹس یا پھر ٹی وی چننلز  میں سے یا کسی ایسی اور سہولت میں سے ہی اپناانتخاب  کرنے کے لئے ہمیں پابند اور مجبور کیا  جا چکا ہے 

یعنی اس جدید  نو آبادیاتی نظام میں ہماری بیڑیوں کو اور لمبا کر کے سہولت بڑھا دی  گئی ہے اور ہم خوش  ہیں کہ ہمیں اتنی  آزادی تو مل گئی ہے کہ  خود سے کسی بھی اس چیز کا انتخاب کر سکتے ہیں جو ہمیں دی گئی فہرست میں موجود ہو

ہماری نجی اور پیشہ ورانہ زندگیاں سہولت کار کمپنیوں جیسے ایمازون ، گوگل اور مائیکروسوفٹ سےبندھی ہوئی ہیں جودراصل  ہمارے سمارٹ گھروں ، فونز ، اسپتالوں ، سکولوں ، دفاتر یہاں تک کہ پورے شہر کا نظام  چلا رہی ہیں اور ایسی کئی کمپنیاں نگرانی کے نام پر ہمارا ہر احتجاج ، سیاسی جلسہ ، یہاں تک کہ ہر طرح کی  معاشرتی اور سماجی سرگرمی اور آزادانہ میل جول  بھی با آسانی قابو میں لے کر کنٹرول میں رکھ سکتی ہیں  اور ہم اسے سہولت سمجھ کر تن آسانی میں محوو مگن ہیں

اس طرح سامراج امیر سے امیر تر ہو کر بھی با آسانی گمنام رہے گا اور دنیا کی اکثر آبادی کی با آسانی نگرانی کرتے ہوئے انکو مزید محنت، کرنے کمانے اور خرچ کرتے چلے جانے کے لئے بہت سے نت نئے خرید و فروخت پر اکسانے کے اشتہارات اور پروگرام دکھائے اور سنائے جا سکیں گے

یہ در اصل ایک ایسے یعنی غیر مرئی مایہ جال کی تشکیل ہے جس کے چنگل سے صرف خاص طور منتخب شدہ قابل قبول اور سامراج کی حامی ذہنیت کے  حامل  افراد کو ہی ابھر کر دوسری طرف آنے  کا راستہ فراہم کیا جاتا ہے اور خصوصی طور پر سرپرستی کر کے انہیں معاشی طور پر پوری طرح مضبوط بنا دیا جاتا ہے - باقی افراد اپنی سر توڑ کوشش کے باوجود اس مایہ جال کے اندر ہی رہ جاتے ہیں اور ایک خاص حد سے آگے نہیں نکل پاتےاور یہی سوچتے ہوئے زندگی گزار دیتے ہیں کے اس معاشی چوہا دوڑ میں مقابلہ بہت سخت اور بے رحم ہے ، جبکہ ایسا جان بوجھ کر بنا دیا گیا ہے جس کا ادراک  بہت  کم لوگوں کو ہوتا ہے

لوگوں کو تعلیم کے نام پر شعور اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے محروم کرنے  کا کام صنعتی انقلاب کے آغاز سے ہی کیا جانے لگا تھا تا کہ وہ ہمیشہ ایک ملازم کی سوچ سے آگے نہ بڑھ سکیں اور یہ کبھی نہ جان سکیں کہ در اصل ان کو معاشی خوشحالی کے اصل طریقوں کی طرف سوچنے سے بھی محروم کرنے کا کام سامراج کے نام نہاد تعلیمی نظام کے ذمے ہے اسی لئے  دنیا کے کسی بھی تعلیمی ادارے میں تخلیقی صلاحیت کو نکھارنے کا کام تو در کنار ایک مضبوط اور قابل بھروسہ شخصیت کی تشکیل کا اہم ترین کام بھی نہیں کیا جاتا کیونکہ اس طرح انسان میں شعور جاگ جاتا ہے اور اسے ان باتوں کا ادراک بھی ہو جاتا ہے جن سے سامراجی اور نوآبادیاتی  نظام کی قلعی کھل جاتی ہے

رہی سہی کسر میڈیا کی ایجاد کے بعد پوری کر دی گئی جس کا کام لوگوں کو بلواسطہ انداز میں حرص مال اور اس کو  سنبھال کر رکھنے اور صرف ان چیزوں پر خرچ کرتے رہنے پر اکساتے رہنا ہے جن سے صنعتی اور سامراجی امیر ترین طبقہ کو فائدہ پہنچے اور عام آدمی صرف محنت کر کے ان چیزوں کو خریدے جن سے اس کے خیال میں آرام و آسائش اور تحفظ میں تقویت حاصل ہو نہ کہ کسی انفرادی اور معاشرتی ترقی کے  تعمیری کام پر سرمایہ کاری کرنے لگے - ایسا صرف آپکو مستقل طور پر اضطراب اورمستقبل  کے  خوف میں مبتلا رکھنے سے ممکن ہو سکتا ہے اور یہ کام ہمارا آج کا الیکٹرانک ، پرنٹ اور سوشل میڈیا بخوبی کر رہا ہے

سب جانتے ہیں کہ کسی بھی ملک کی اصل دولت اس کے معدنی اور قدرتی وسائل ہوتے ہیں جن کی مدد سے ہی وہ صنعتی ترقی کی طرف قدم بڑھا سکتا ہے -مغرب میں  صنعتی انقلاب  کے آغاز میں ہی یہ بات سامراجی ممالک کے صنعت کاروںکو معلوم تھی کہ ان کے کاروبار اور صنعت کی بقا کے لئے سب سے زیادہ ضروری چیز وہ خام مال ہے جو قدرتی اور معدنی وسائل سے حاصل ہوتا ہے

یہ خام مال دنیا کے ان تمام سادہ لوح کم علم ممالک میں کثیر مقدار میں موجود ہے مگر وہاں کے عوام کو اس کا ادراک حاصل نہیں- اس لئے ان پر کسی نہ کسی طرح دسترس حاصل کر کے مغلوب بنا لیا جائے تو خام مال کے ساتھ ساتھ تقریباً مفت کے مزدور اور ملازمین بھی با آسانی حاصل ہو سکتے ہیں

 کرنا صرف یہ ہوگا کہ مفت کی  ٹیکنالوجی   کاجھانسا دیا جائے اور ساتھ ہی ساتھ انہیں باور کروا دیا جائے کہ وہ ایک کم علم اور جاہل گنوار قوم ہیں جس کو صرف مغربی طرز کی تعلیم ہی ایک سلجھا ہوا تہذیب یافتہ انسان بنا سکتی ہے - اس طرح ان کی سوچ کو مغرب زدہ محکوم بنا کر ایک ملازم یا غلام میں تبدیل کر دیا جائے

    آپ کو مزے کی بات بتاؤںاپنے اس منصوبے میں یہ سامراجی ممالک انتہائی کامیاب رہے. ہم اور ہمارے جیسے بہت سے دوسرے نو آبادیاتی نظام کے شکار ممالک کئی دہائیوں سے سر جھکائے اپنے قیمتی ترین قدرتی اور معدنی وسائل خام مال کے طور پر کوڑیوں کے مول شمالی امریکا ، یورپ اور خلیجی ممالک کے علاوہ  جاپان اور چین کو برآمد کررہے ہیں۔ پھر ان ہی  سے انتہائی مہنگے داموں ان کی صنعتوں میں تیار شدہ مصنوعات  درآمد کرتے ہیں

   صرف کرومائیٹ ہی نہیں، کاپر، زنک ، فاسفیٹ روک، روٹائیل، باکسائیٹ ،میگناسئیٹ، سونا، کوئلہ پھل, سبزیاں اور زرعی اجناس اور نہ جانے کیا کیا۔۔۔

سب کچھ اور ساری اصلی  قومی دولت کوڑیوں کے بھاؤ لٹا رہے ہیں اور ٹیکسوں کی شرح میں اضافے پر خوش ہیں. کوئی سننے دیکھنے اور سوچنے پر آمادہ نہیں نہ ہی کہیں کسی فورم پر اس پر بات ہوتی ہے. پھر اسی کفران نعمت کا عذاب ہے جو ان بے شعور قوموں کے سربراہان مملکت کہتے پھرتے ہیں کہ ہم نے ان سے کہا ہم بھکاری نہیں، بس حالات خراب ہیں، اللہ کے نام پر ہماری مدد کرو اور امداد کے نام پر بھاری سود کے ساتھ قرضے دے دو۔ یہ تو ایسے ہی ہوا نہ کہ گھر میں خزانہ ہی خزانہ دفن ہو اور باپ  اپنے بچوں کے لئے بھیک کے نام پر ان سامراجی بنیوں سے سود پر قرضے مانگتا پھرے

یہ سامراجی اور خود کو جمہوری کہنے والے ممالک اپنی معاشی دہشت گردی میں اس حد تک کامیاب ہیں کہ ہم اور  ہمارے جیسے بہت سے اور سادہ لوح، ادراک  اور شعور سے محروم  ممالک آج تک اپنے سابقہ آقاؤں،  ان کی گوری رنگت ، رہن سہن کے شاندار انداز سے اس حد تک مغلوب اور مرعوب ہیں کہ ان کی طرح کا رہن سہن بول چال اور زندگی کا انداز اپنانا فخر کی بات سمجھتے ہیں اور خود کو اب بھی جاہل،  گنوار بلکہ اور بہت سے برائیوں کا مجموعہ تسلیم کر کے خود سے اور ساری دنیا سے شرمندہ رہتے  ہیں اور نفرت کرنے لگتے ہیں- تبھی تو  ساری دنیا کی ہر فورم اور پلیٹ فارم پر اپنی برائیاں بہت شوق سے بتاتے ہیں اور اپنا ہی  مذاق اڑاتے ہیں

آدھی سے  زیادہ دنیا پر مسلط کیا جانے والا یہ معاشی اور اخلاقی اقدار کے استحصال پر مبنی  نام نہاد جمہوری اور سرمایہ   دارانہ نظام جو در اصل سامراجی بنیوں کی بینکنگ اور نوآبادیات کی جدید انداز میں توسیع کا نظام ہے ،  صرف اصل انسانی اور اخلاقی قدروں ، رسم و رواجات کی بحالی  اور اس تعلیمی نظام کو اپنانے سے غیر موثر ثابت ہو سکتا ہے جس میں دینی و خلاقی تربیت ایک لازمی جزو کے طور پر شامل ہو- جیسا کہ ہمارے بزرگان اور مامورین نے تفصیل سے وضع فرمایا اور ہم اسے چھوڑ کر اندھا دھند مغربی طرز تعلیم اور رہن سہن کی تقلید میں لگے ہوئے ہیں- ہم اگرٹیکنالوجی کو درحقیقت اپنے لئے محفوظ اور موثر بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کے استعمال کو اپنی دینی، اخلاقی  اورمعاشرتی اقدار کا تا بع کرنا ہوگا

یہی وہ ہماری  دینی اور معاشرتی اقدار، ثقافت اور رہن سہن  ہیں جن کواپنانے سے ہم اپنی ان اعلیٰ ترین ہستیوں کی تقلید میں دانائی اور شعور کی وہ منازل طے کر سکتے ہیں جن کو تاریخ سے حذف کرنے کا کام ایک عرصے سے جاری ہے تا کہ ہم کبھی بھی خود پراور اپنی قوم پر  یقین اور فخر نہ کرسکیں

آئیے اپنی تاریخ کے اوراق کو پھر سے ایک بار پلٹ کر ان میں موجود اپنے اسلاف اور عظیم ہستیوں کے حالات زندگی اور کارناموں پر نہ صرف غور کرنا سیکھیں بلکہ ان کی تقلید کو اپنا نصب العین بنا کر اپنی اصل اقدار کو اپنا لیں اور خود پر یقین کے ساتھ اپنی قوم پر فخر کرنا اوراس کی عزت کرنا سیکھ لیں


کاشف احمد

Thursday, 2 June 2022

چراغ اور آئینہ

:روشنی پھیلانے کے دو  ہی طریقے ہیں

یا تو ایک چراغ کی مانند بنو یا پھر آئینے کی طرح اس روشنی کو منعکس ضرور کیا کرو 

شروع میں کچھ وقت لگا مجھے،  ایڈتھ وارٹن کے اس حضرت جلال الدین رومی سے متاثرہ قول کو سمجھنے میں- مگر دھیرے دھیرے جب بات سمجھ میں آنے لگی توپتہ  لگا کہ چراغ سے یہاں روشنی کے منبع اوران سب عظیم  ہستیوں  کو تشبیہ دی گئی ہے جن کی اخلاقی بلندی، تہذیب و عقائد اور اعلی اقدار  کی پاسداری کی  وجہ سے دنیاکی  تاریخ کےدھارے کا رخ بدل گیا اوران کی انسانیت کی فلاح بہبود کے لئے خدمات کے بے مثل کارناموں کی وجہ سے ان کے نام ہمیشہ زندہ رہیں گے 

یہ وہ سب مصنفین بھی ہوسکتے ہیں جو بظاہر ایک عام آدمی کی طرح ہی معاشرے کے حصہ رہے اور وہ سب  سماجی کارکن ، حادثاتی مدد پہنچانے والے ، وہ عظیم والدین ، استاد اور مذہبی یا روحانی ترقی کے رہنما بھی جنہوں نے اس دنیا میں آنے کے مقصد کو سمجھا اور اپنی زندگی کو اچھائی پھیلانے اورانسانیت  کی خدمت کے لئے وقف کر دیا

ہم میں سے ہر ایک کبھی ایک چراغ اور کبھی آئینے کی طرح ہے اور ہر انسان میں یہ صلاحیت ودیعت کر دی گئی ہے کہ وہ بیک وقت ایک چر اغ اور آئینہ دونوں بن سکتا ہے - ایک شرمیلے اور ہجوم سے دور رہنے والے کو بھی اچھائی دکھانے اور انسانی ہمدردی کے کاموں کا موقع ضرور ملتا ہے 

آئینہ در اصل وہ سب لوگ ہیں جو چراغوں کی طرح روشن عظیم ہستیوں کی دانائی، شعور، فلاح وبہبود، انکی  بنی نوع کی خدمت اور رہنمائی کے شاندار کارناموں سے سیکھ کرانہیں لوگوں تک پہنچانے کا کام کرتے ہیں - کسی بری یا سنسنی خیز  خبر یا معلومات کی جگہ  اچھی اور مفید بات کو نہ صرف لوگوں تک پہنچانے کا کام کرتے ہیں بلکہ ان چراغوں کی حوصلہ افزائی ، مدد ، تعریف و ترویج  کی ہر ممکن کوشش کرتے رہتے ہیں - چاہے وہ ان کا ذکر اپنی باتوں میں کرتے رہیں کچھ تحریر کر کے ان کی بات آگے پھیلائیں یا پھر کوئی ویب سائٹ بنا کر یا سوشل میڈیا پوسٹس میں ان کا ذکر کریں 

آپ کی زندگی  میں بھی کوئی ایسا استاد یا رہنما ضرور رہا ہوگا جس سے آپ کی سوچ روشن ہوئی اوراسی  کے اثر  سے آپ پہلے سے  بہتر انسان بن سکے-  کیا آپ پر فرض نہیں کہ یہ کہانی زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچا کر ان کی زندگیوں میں بھی انقلاب برپا کرنےکی کوشش کریں ؟ اگر آپ ابھی اس قابل نہیں کہ ایسے شاندار لوگوں کا ہر طرح ساتھ دیں سکیں اور ہاتھ بٹا سکیں تو کم از کم ان کی حوصلہ افزائی کی خاطر ہی دوسرے لوگوں تک ان کی بات کو پہنچانے کا کام کر سکتے ہیں 

ہم سوشل میڈیا اور عام بات چیت میں منفی قسم کے خیالات اور خبروں کو تو زیر بحث لاتے رہتے ہیں یا لغویات سے لطف اندوز ہونے کی خاطر سب کو اس میں شامل کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ اچھی باتوں اور کارناموں کو پھیلانے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں 

اپنے آپ کواور اپنے زیر اثر افراد کو  اس بات کی یاد دہانی کرواتے رہنا چاہئیےکہ ہمیں ایک چراغ کی طرح نہیں تو آئینے کی طرح ضرور بننا ہے اندھیرے کی نہیں روشنی کی ترویج کرنی ہے - کیونکہ روشنی کو ترویج دینے والوں کی عمر لمبی ہوتی ہے - اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ وقت کی حدوں سے باہر نکل کر ایک ایسی دائمی حیات پا لیں جس کو کبھی موت نہ آئے اور رہتی دنیا تک آپ کا نام قائم رہے تو اس کا بس ایک یہی طریقہ ہے اور یہ اس خالق کائنات کا بھی وعدہ ہے کہ جسے دائمی حیات کی تمنا ہے وہ ایک روشن چراغ بنے یا کم از کم اس روشنی کی ترویج میں ممد و معاون ہو - کیونکہ ہماری ہر خوشی ، راحت اور اطمینان ، آسائش اور نعمت در اصل ہمارے ارد گرد موجود ہمارے ان چند اچھے اور نیک لوگوں سے منسلک رہنے سے وابستہ ہے - جتنی عقیدت و قربت بڑھتی جاتی ہے اور جتنی ان کی خدمت میں اضافہ کرتے ہیں اتنا ہی فضل اور انعام بڑھتا ہے - باقی سب تو صرف نظر کا دھوکہ اور عارضی فرار رہ رہ جاتا ہے 



ایک شخص اپنے بھائی کی شکایات لے کر  خدا کے ایک انتہائی برگزیدہ بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کے '' اعلیٰ حضرت میرا بھائی کوئی کام دھندا نہیں کرتا صرف دوسروں کی بھلائی اور فلاح بہبود کے کاموں میں لگا رہتا ہے نیکی کی ترغیب دیتا ہے اور لوگوں میں ہدایت شعور اور دانائی پیدا کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے- اب آدمی کو اتنا نیک بھی نہیں ہونا چاہئیےکے اپنے اور اپنے گھر والوں کے روزگار کی فکر بھی نہ ہو

الله کے وہ پیارے بزرگ فرمانے لگے '' تمہارے بھائی کو میں جانتا ہوں وہ ایک نیک انسان ہے اور جانتے ہو یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا نیک انسانوں کے لئے بنی اور ان ہی کی وجہ سے ہی قائم ہے ؟-  وہ شخص کہنے لگا کہ '' اعلیٰ حضرت شائد اس لئے کہ انہی چند اچھے اور نیک لوگوں کی خاطر ہم جیسے گناہ گاروں کی پکڑ میں رعایت ہو جاتی ہے -'' وہ عظیم ترین بزرگ فرمانے لگے '' جا تجھ سے بھی تیرے بھائی کی وجہ سے رعایت برتی جا رہی ہے اور شکر کیا کر کہ تجھے اس کے حصّے کا رزق دیا جاتا ہے تاکہ اس کے نیک کاموں میں کسی قسم کا خلل پیدا نہ ہو - دنیا بنی ہی اچھائی  ،نیکی اور بھلائی کے کاموں کے لئے ہے اور جو یہ کام کرتے ہیں ان کا ذمہ وہ خالق کائنات خود اٹھا لیتا ہے - ان ہی کی وجہ سے دنیا میں تمام آسانیاں ، آسائشیں ،فضل و انعام اور نعمتیں ان سے خود کو منسوب رکھنے والوں تک پہنچتی ہیں اور پھر انہی کا بچا کھچا باقی لوگ بھی کھاتے ہیں 

یہی وہ روشن چراغ ہیں جن سے وابستگی کی دعویداری پرہی آدمی عافیت کے حصار میں آ جاتا ہے - جتنا جتنا ان سے قرب و عقیدت مندی میں   اضافہ ہوتا ہے اتنا ہی  فضل و کرم ،آسانیاں اور آسائشیں حاصل ہوتی ہیں اور جتنا بھی ان کا ساتھ دینے ، ہاتھ بٹانے، سہولت میسر کرنے کے کاموں کی توفیق بڑھتی جاتی ہے اتنی ہی فضل و انعام ، خوشیاں اور اطمینان کی بارش بڑھتی ہے 

نیکی ، اچھائی ، فلاح بہبود اور بھلائی کے کاموں کے علاوہ جو مال بھی کسی بھی اوراستعمال میں ہوتا ہے یا استعمال  کرنے کے لئے رکھا جاتا ہے وہ خالق کائنات کی نظر میں صرف ایک غلاظت کا ڈھیر ہے اور ان عظیم کاموں کے علاوہ مال و دولت ، آسائش اور آرام کی طلب و حرص بھی در اصل غلاظت کی خواہش کرنے کے مترادف ہے 

یہاں تک کہ وہ علم بھی ایک غلاظت کا ڈھیر ہے جوانسانیت کی فلاح وبہبود، نیکی اور بھلائی کے کاموں  کی بجائے مال کمانے اورذاتی مفاد کی خاطر استعمال کیا جاتا ہو - ایک دانشور اپنا ایک واقعہ سناتے ہوئے کہتے ہیں کہ ''میں شہر سے چھٹیوں میں جب اپنے گاؤں گیا تو اپنے تایا جی پر اپنی علمیت کا رعب جھاڑنے کی خاطربتانے لگا کہ ''تایا جی آپ کو پتہ ہے کہ مکھی کی آنکھ میں 700 کے قریب عدسے لگے ہوتے ہیں جس سے ہر طرف ہر چیز  بہت آسانی سے  دیکھ لیتی ہے 

وہ دانشور بزرگ  کہتے ہیں کہ مجھے امید تھی کہ  میرے دیہاتی ان پڑھ سے تایا جی میری علمیت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے مگر تایا جی نے کہا '' لاکھ لعنت ہو ایسی آنکھ پر جب مکھی نے بیٹھنا جا کر گند پر ہی ہوتا ہے ''- یہی فرق ہوتا ہے ایک عام مکھی اور شہد کی مکھی میں - شہد کی مکھی ہمیشہ پاک جگہ رہتی ہے خوبصورت  باغوں اور پھولوں میں رہ کر شہد تیار کرتی ہے اور اس پر وحی کا نزول ہوتا ہے

اسی طرح ان روشن چراغوں کی روشنی کو منعکس کرنے والےلوگ جو آئینے کی مانند ہوتےہیں ، وہ لکھنے والے اور مصنفین، وہ اچھائی بہتری اور بھلائی کی بات بتانے والے ،آسانیاں  دینے والے اور کام آنے والے بھی اسی طرح حوصلہ افزائی ، تعریف ستائش کے ساتھ ساتھ مزید ترویج و اشاعت کے بھی حقدار ہوتے ہیں تا کہ زندگی میں فضل و کرم ، انعامات اور آسانیاں قائم و دائم رہ سکیں

یہی انسان کا مقصد حیات ہے اور اسی طرح وہ بوڑھا نہیں بلکہ بڑا انسان بنتا ہے - ذرا غور کیجئیے! آپ کو اپنے باپ دادوں میں سے کتنوں کے نام یاد ہیں - اپنے پردادا تک یا ان سے پہلے کے بھی آباؤ اجداد تک ؟ جن کا نام بھی اب تک زندہ ہے اس کی یہی ایک وجہ ہے کہ یا تو وہ خود ایک چراغ کی مانند تھے یا پھر آئینے کی طرح اس مقدس روشنی کے پھیلاؤ کے  لئے ہر وقت فعال اور کوشاں رہے

بہت سے لوگ صرف علم کی روشنی  حاصل کر لینے کو کافی سمجھ لیتے ہیں جبکہ بنا اس علم کے اثر اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی دانائی کے ، اس علم کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ اکثر ایسا علم نقصان دہ ثابت ہو کر انسان کو بس مالی فائدہ حاصل کرنے پر لگا دیتا ہے چاہے کسی طرح بھی یہ فائدہ حاصل ہو بس جیسے تیسے حاصل کرو باقی سب لوگ صرف اس علم کے زور پر صرف اس ذاتی فائدہ کی خاطر استعمال کرنے کیئے جانے کے لئے ہی تو ہیں، کوئی حقیقی  شعور اور فائدہ دینے کے لئے نہیں-

علم بنا دانائی کے ایک لا حاصل چیز ہے ، ایسے ہی جیسے چراغ کو صاف ستھرا کر کے اس میں تیل ڈال کر تیار تو کر دیا جاے مگر جلا کر روشن نہ کیا جائے کیونکہ روشن ہونے کے لئے جلنا پڑتا ہے ، تردد کرنا پڑتا ہے دانائی کی بھٹی سے گزر کر دنیا کو روشن کرنا پڑتا ہے - اسی لئے اکثر لوگ علم کو جذب کر کے اس کا اثر حاصل نہیں کرتے اپنی ذات کا حصہ بنا کر شعور حاصل نہیں کرتے اور دراصل یہی شعور بانٹنا ہے روشنی پھیلانا ہے

اسی طرح کئی لوگ اپنی ذات کے آئینے  کو شفاف تو کر لیتے ہیں ، آلائشوں سے پاک رکھتے ہیںاور  چمکا کر  یہی سمجھتے ہیں کہ زندگی کا مقصد پورا ہو گیا مگر یہ تو ابھی ابتدائی درجہ ہے اس سے آگے اپنی ذات سے پردہ ہٹانا ہوتا ہے اور روشنی کو منعکس ہونے دینا ضروری ہے اور اس کے لئے کم از کم روشنی کو من و عن اسی طرح سے پڑھ کے سنا دینا تو ایک اچھائی ضرورہے، مگر  نچلے درجے کی - اصل بات تو تب ہے کہ روشنی کو جذب کرو اور جو تبدیلی اور اثر محسوس ہو اسے آگے بیان کرو اور پھیلاؤ 

ایک غلط فہمی یا یوں کہ لیجیے کہ بہانہ یہ بھی کیا جاتا ہے کہ کچھ جگہوں پر علم و شعور کی روشنی کی ترویج ممکن نہں کیونکہ ظالمانہ پابندیاں ہیں ہمارے روشن چراغوں اور عظیم ہستیوں کی روشنی کی ترویج اور پھیلانے پر یا دوسرے لفظوں میں تبلیغ کرنے پر پابندی ہے- جبکہ اس غلط فہمی کا ازالہ تو اسی طرح ہو جاتا ہے کہ آپ خود اس روشنی کو جذب کر کے اپنے تجربے کو آگے بیان کریں

 اور پھر دنیا میں اس خالق کائنات نے اور بھی  بے شمار چھوٹے بڑے ایسے ہی روشن چراغ پیدا کر رکھے تھے اور اب بھی ہیں جن کی روشنی کا انداز مختلف ہو سکتا ہے رنگ بھی ہوسکتا تھوڑا الگ ہو مگر روشنی تو بہرحال روشنی ہی ہوتی ہے آپ کا کام تو اسے حاصل کرنا ، جذب کرلینا اور خود روشن ہوجانا ہے یا پھر کم از کم منعکس کر دینا ہے  - ان سب عظیم ہستیوں اور بزرگوں سے فیض حاصل کرنا ، جذب کرنا اور روشن ہوجانا در اصل ہمارا مقصد حیات ہے یا کم از کم اسی  ملتی جلتی سی روشنی اور خوبصورت باتوں منعکس کرتے رہنے کی ہمہ وقت کوشش کرتے رہنا 

اپنے ارد گرد آج ہی نظر دوڑائیے، آپ کو ایسے  بے شمار روشن چراغ دکھائی دیں گے جن کی روشنی آپ کی زندگی کو اندھیروں سے نکال  کر منور کر دے گی - لیکن صرف اپنی زندگی کو ہی منور مت کیجئیے کیونکہ یہ روشنی بانٹنے سے گھٹتی نہیں بلکہ اور بڑھتی ہے

فیصلہ کر لیجئے کہ آج سے ہی شروعات کرنی ہے اوراپنے پیاروں پر ہی نہیں سب لوگوں پر پران عظیم ہستیوں اور  اسلاف کا  ایک بہترین اثر قائم کرنے کی خاطر ان چراغ نما ہستیوں کا تعارف ہر ممکن جگہ کروانا ہےاور ان کی ہر شخص کی  نظرمیں ایک منفرد، قابل احترام شناخت پیدا کرنی ہے- جتنا بھی  ممکن ہو سکے  ان کا ساتھ دینا ہی ہے، ہاتھ بٹاناہے یا کم از کم ان  اندھیرا بڑھانے والی خبروں ، تحریروں, سوشل میڈیا پوسٹس اور دوسری تمام لغویات کو ترک کر کےصرف ان روشنی پھیلانے والے اقوال اور تحریروں کی ترویج کو ہرممکن طریقے سے لوگوں تک پہنچاتے رہنا ہے 

کاشف احمد 

Friday, 27 May 2022

شخصیت اور کردار کی مضبوطی کی چند نشانیاں

  

یقین کیجئے! الله کا آپ کو قبول کر لینا،  انسانوں کے آپ کو قبول کر لینے سے کہیں بہتر ہے - 

 

اکثر لوگ بوڑھے ہوجاتے مگر بڑے نہیں ہوتے -صرف عمر میں پختگی  آتی جاتی  ہے، شخصیت میں نہیں - 

 

 عمر رسیدہ ہو جاتے ہیں کردار میں بلندی اور مضبوطی کے قائل نہیں ہوتے - بوڑھے اور بڑے انسان میں بہت فرق ہوتا ہے - ایک بڑا انسان ہونا  کوئی آسان کام نہیں - 

 

اس کی خاطر آپ کو اپنا آپ لوگوں کی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں اور نہ ہی اس کے لئے آپ کو لوگوں کی ہاں میں ہاں ملانے ، ان کے لئے دلچسپ بننے اور ان کا دل بہلانے کی ضرورت ہے - 

اس کے لئے لوگوں کے آگے دبی دبی  سہمی آواز رکھنے، ضرورت سے زیادہ نرم ہونے،ہر وقت جھکے رہنےاور اپنے جذبات چھپانے کے علاوہ نہ ہی آپ کو بہت ہی  دوستانہ رویہ بنا کر رکھنے ، برجستگی  اور زیادہ ہی  ملنساری سے ملنے کی کوئی  ضرورت ہے - آپ کو لوگوں کی  لئے پتلا دبلا نظر آنے   اور خوبصورت دکھائی دینے کی بھی ضرورت نہیں جس سے آپ  انھیں  کسی بھی معنی میں پر کشش دکھائی دیں- 

 

آپ کو خالص اپنے آپ کے علاوہ کچھ اور بن کر دکھانے کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں اور کبھی بھی کسی کو اس بات کا یقین دلانا نہیں  چاھئیے کہ  آپ اس قابل ہیں کہ وہ آپ کو اپنے ساتھ رکھیں - 

 

آپ کے لئے درست اورواقعی آپ کے  قدردان   لوگ  خود  ہی آپ کو پہچان لیتے ہیں . اس کے لئے کچھ خاص، اپنی فطرت سے ہٹ کر  کرنےکی کوئی  ضروت نہیں پڑتی -  یہی لوگ آپ کی قدر کرتے ہیں ، احترم سے پیش آتے ہیں  اور کبھی آپ کو اپنی فطرت  پر سمجھوتے کے لئے مجبور نہیں کرتے - 

اس سے قبل کے آپ اپنے لئے  ستائش اور تعریف حاصل کرنے  کی دوڑ میں بھاگنے لگیں ، اپنا ذات کا احترم کرنا سیکھ لیں -  شخصیت  میں  ایک وقار ہونا بالکل اسی طرح ہے جیسے زندگی کے لئے ہوا ، پانی اور خوراک  کا ہونا - 

 

زندگی میں نظم و ضبط  کی کی بنیاد اپنےوجود کی قدر و احترم   سے ہی پڑتی ہے اور ایک پروقار شخصیت اپنے نفس کو انکار کرنے کی صلاحیت سےنشو و نما پاتی ہے - اس مختصر سی زندگی میں  کبھی بھی   اطمینان قلب   ، اور کردار کی مضبوطی پر سمجھوتہ  نہیں کرنا چاہیے - چپ رہ کر کسی قسم کے اظہار اور رد عمل سے خود کو روکے رکھنا ایک کینسر کی طرح انسان کے کردار کو مسخ کر کے اسے بزدل بنا ڈالتا ہے - ا علیٰ مقاصد  اور حق کے لئے کھڑے نہ ہو پانا کوئی عقلمندی نہیں ہوتی - ہوسکتا ہر جنگ جیتی نہ جاسکے مگر سب کو یہ تو صاف  پتہ چل جاتا ہےکہ  کون ا علیٰ مقصد کی خاطرحق کا ساتھ دینے  

کے لئے  اٹھ کھڑا ہونے کی طاقت رکھتا ہے - 


 

کردار کی مضبوطی اور شخصیت میں وقار ، پختگی اور نکھار کی چند نشانیاں  ہیں : 

 

آپ یہ بات جانتے  ہیں کہ  لوگ بذات خود برے یا بیوقوف  نہیں ہوتے ،  ان  کا غلط رویہ در اصل ان کے  خوف اور اضطراب کا نتیجہ ہوتا ہے- آپ بس  اپنے آپ کو ہی سب سے اچھا انسان   اور دنیا کو بیوقوفوں اور درندوں سے بھرا ہوا  

سمجھنا  چھوڑ دیتے ہیں -صرف  نیک بنتے نہیں ، واقعی نیک ہو جاتے ہیں - 

 

شروع میں یہ کافی بے رنگ اور کچھ عجیب  سا لگنے لگتا ہے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ بہت  دلچسپ ہو جاتا ہے - 

آپ یہ بات سیکھ جاتے ہیں کہ جو آپ سوچتے ہیں وہ خود بخودسب  کی سمجھ میں نہیں آ سکتا - اس کے لئے آپ کولوگوں  کی ذہنی سطح کے مطابق  آسان اور اچھے الفاظ میں سمجھانا  ہوتا ہے - 

 

 آپ جانتے ہیں کہ کبھی آپ بھی غلط ہو سکتے ہیں اور اس کو تسلیم کرنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں , اور اس کا برملہ اظہارکرنے کی جرت بھی رکھتے ہیں - آپ  خود  اعتمادی محسوس کرتے ہیں ، اس لئے نہیں کہ آپ کوئی بڑی ہستی ہیں ، بلکہ اس لئے کہ آپ بھی سب لوگوں کی طرح  گھبراتے ہیں ، ناسمجھ بھی اور بے یقینی کا شکار بھی ہو جاتے ہیں مگر صرف غلطی کرنے سے نہیں ڈرتے ، اسے سیکھنے کا عمل سمجھتے ہیں اور جانتے ہیں کے سب ہی اپنی اپنی جگہ اور سمجھ  

کے حساب سے جدوجہد کر رہے ہیں - 

 

کسی قسم کےاحساس کمتری یا  ایسے مغالطے کا شکار نہیں رہتے کہ آپکو جو کچھ بھی حاصل ہوا  ہے اس کے آپ اہل نہیں  بلکہ کوئی اور اس کازیادہ  حقدارہے نا ہی آپ کوئی احساس برتری رکھتے ہیں کیونکہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کے ہم سب ہی اپنی اپنی زندگی میں  اپنا کرداراپنی تمام تر کمیوں اور کمزوریوں کے باوجود  کسی کسی نا کسی حد تک ادا کرنے کی  

کوشش  کر رہے ہیں - 

 

آپ اپنے والدین کو کبھی آپ کو آپ کی مرضی کے برعکس دنیا میں لانے کا ذمہ دار نہیں سمجھتے اور ہر طرح کی ناراضگی اور غصہ ترک کر کے انہیں بھی اپنے جیسا ہی ایک انسان سمجھتے ہیں جو ایک حد تک خودمختار ضرور ہے مگر ساتھ ہی  ساتھ اپنے حصّے کی پابندیاں اور حدود  بھی ساتھ لے کر پیدا ہوا  ہے- جس  کی وجہ سے انہیں بھی  کئی طرح کی  

بلاؤں کا سامنا رہتا ہے - 

 

اپنی شخصیت میں پختگی  آنے پر آپ یہ بھی سمجھ جاتے ہیں کہ اپنوں سے کونسا وقت کسی اہم بات کرنے کے لئے مناسب ہوتا ہے - آپ موقع محل دیکھ کر اس وقت بات کرتے ہیں جب وہ  بظاہر معمولی  مگر  ایک حساس ا ور نازک  صورت حال سے نہ گزر رہا ہو ، جیسے کسی بات کو لے کر پہلے سے پریشان ہو ، یا تھکن کا شکار ہو یا پھر اس کا  بلڈ پریشر نارمل سطح  سے کم یا بڑھا ہوا ہو ,یا پھر  شوگر کی سطح غیر مناسب درجہ پر ہوتو ہرگز کوئی تکلیف دہ یا پریشان کن بات نہیں کرتے - 

آپ یہ بات بھی سیکھ جاتے ہیں کہ آپ کے قریبی  لوگوں میں سے  کوئی اگر کبھی آپ سے چھیڑ چھاڑ کرتا ہے.  ضدیا کسی بات کے پیچھے پڑ جاتا ہے تو اس کا مطلب ہر بار آپ کو تنگ کرنا نہیں ہوتا- بلکہ شائد کسی بات کی طرف اپ کی توجہ مبذول کروانا بھی ہوسکتا ہے  اور شائد انہیں آپ کی توجہ حاصل کرنے کا  یہی طریقہ آتا ہو - آپ یہ بھی جان لیتے ہیں کہ آپ کے پیاروں  کے  روئیے میں تبدیلی کی وجہ کوئی مخفی ذہنی الجھن ہو سکتی ہے اور آپ کسی مناسب وقت پر بہت پیار سے اس کی وجہ پوچھنا نہیں بھولتے - 

آپ یوں ہی برا مان جانا اور جھنجھلا اٹھنا چھوڑ کر یہ بات جان لیتے ہیں  کہ بات کو دل پر لگا کے رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ، بغض اور کینہ صرف بیمار کرتا ہے  اور کچھ نہیں  - چار دن کی مختصر  زندگی میں لوگوں سے یہ امید رکھنا چھوڑ دیتے ہیں کہ آپ سے برامنانے  کی وجہ خود  آ کر پوچھیں گے - آپ  انہیں سیدھا جا کربتا دیتے ہیں  اور وہ اگر سمجھ جائیں تو معاف بھی کر دیتے ہیں لیکن اگر نہ بھی سمجھیں تو فلحال ضرور معاف کر دیتے ہیں  تاکہ آئندہ کبھی کسی مناسب وقت پر  بہتر انداز میں سمجھا سکیں - 

 

آپ اس حقیقت کو پوری طرح تسلیم کرلیتے  ہیں کہ  کچھ بھی یوں ہی نہیں کہنا ، جو بھی کہنا ہے اس کی پوری ذمہ داری قبول کرنی ہے اور سوچ سمجھ کر بات کرنا بہت ہی ضروری ہے - جن کی آپ کو واقعی پرواہ ہے ان کی اپنی زندگی میں اہمیت کا برملا اظہار نہایت اہم  بات ہے اور ان سے کو اس کا روز احساس دلاتے رہنا چاھئیے- آپ زندگی میں کسی بھی چیز کے بے نقص ہونے کی امید نہیں رکھتے - نہ کوئی  کام بے نقص ہوتا ہے نہ لوگ اور نہ ہی زندگی اپنے درجہ کمال تک ہوتی ہے - البتہ رشتے بے نقص ہو سکتے  ہیں اگر انہیں توجہ . پیار اور ستائش کے پانی سے سیراب رکھا  جا ئے-آپ جانتے ہیں کہ پہلے جن چیزوں سے آپ مضطرب ہو جایا کرتے تھے اب وہ قابل قبول حد تک بہتر ہو چکی ہیں  اس لئے آپ بے نقص کی تلاش کی بجائے  قابل قبول کو پسند کرنے لگتے ہیں - 

 

آپ کسی بھی چیز یا  شخص کے بارے میں ضرورت سے زیادہ کسی  خوشفہمی کا شکار نہیں ہوتے اسی لئے ایک صورت حال کو سمبھال لینے والا . بردبار اور رحمدل انسان بن کر ابھرتے ہیں -تصوارت اور خواب و خیال کی دنیا میں کم ہے رہنا پسند کرتے ہیں اورخود  پر کسی قسم کوئی  جنون سوار نہیں ہونے دیتے  کیونکہ مزاج میں دھیرج اور ٹھہراؤ آ جاتا ہے - 

آپ کسی بھی چیز یا  شخص کے بارے میں ضرورت سے زیادہ کسی  خوشفہمی کا شکار نہیں ہوتے اسی لئے ایک صورت حال کو سمبھال لینے والا . بردبار اور رحمدل انسان بن کر ابھرتے ہیں -تصوارت اور خواب و خیال کی دنیا میں کم ہی  رہنا پسند کرتے ہیں اورخود  پر کسی قسم کا کوئی  جنون سوار نہیں ہونے دیتے  کیونکہ مزاج میں دھیرج اور ٹھہراؤ آ جاتا ہے - آپ کی پختہ سوچ یہ بھی جانتی ہے کہ ہر کسی کی شخصیت کی کمزوری یا کمی کے ساتھ  دوسری جانب اس  میں بھرپور صلاحیتیں اور خوبیاں بھی ہوتی ہیں-جیسےہوسکتا ہے  ایک شرارتی طبیعت کا انسان بہت خوبصورتی سے چیزوں کی درست جانچ کر لیتا ہو  اور مشکل حالات  میں ثابت قدمی سے کام لے - یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی صفائی پسند نہ ہو مگر بہت ہی تخلیقی ذہن  اور پر  بصیرت نظر کا حامل ہو - اس لئے آپ صرف  کسی کی کمیوں اور کمزوریوں  پر ہی  توجہ مرکوز کر کے نہیں رکھتے، اس کی  پوری شخصیت کو دیکھتے ہیں - آپ یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ بے نقص کوئی نہیں ہوتا مگر ہر نقص کے ساتھ کوئی شاندار صلاحیت بھی ہر انسان میں موجود ہوتی ہے - 

 

آپ سمجھوتے کی اصل روح کو سمجھ جاتے ہیں  اور اسی لئے آپ  ایک بڑا اور پختہ سوچ کا مالک انسان ہونے کے  ناطےچند  جگہوں پر میں  اپنی  شکست تسلیم کرنے  کر لینے سےبھی نہیں گھبراتے- 

 

آپ آسانی سے کسی  بھی چیز یا کسی بھی شخص پر مر مٹنا چھوڑ دیتے ہیں - یہ ایک طرح سے کوئی اتنا آسان کام نہیں ہوتا -مگر اب آپ با   آسانی محبت میں گرفتار نہیں ہوتے -  سوچ میں سنجیدگی اور پختگی آپ کو ایسا کرنے سے بچا کے رکھتی ہے-آپ یہ بات جان لیتے ہیں کہ کسی کی محبت میں خود سے محبت ترک کردینا عشق مجازی اور تمام بنی نو  ع انسان  کی خاطر خود سے محبت ترک کرنا عشق حقیقی کہلاتا ہے  - آپ کی پہچان انگیز اور دور اندیش شخصیت یہ جانتی ہے کہ کچھ بھی  چاہے کتنا بھی جاذب نظرہو اور کوئی کتنی بھی  پر  کشش شخصیت  کا مالک ہو ، قریب  سے دیکھنے پراس کےکچھ نہ کچھ تکلیف دہ پہلوبھی سامنے آتے ہیں -ہر چمکتی  چیز سونا نہیں ہوتی -اس لئے آپ خود انحصاری کو ترجیح دیتے ہیں اور جو کچھ آپ کے پاس پہلے سے ہے اس سے زیادہ پیار کرنے لگتے ہیں اور اسی کو  زیادہ اہمیت دیتے ہیں - 

 

آپ پر رفتہ رفتہ یہ  حیران کن   حقیقت بھی آشکار ہونے لگتی ہے کہ  اب  کسی کا  آپ کا ساتھ نبھانا  ایک  مشکل کام ہے- کیونکہ آپکی لذات  ا علی ہو چکی ہیں جو اکثر لوگوں کے لئے شائد ابھی تکبدذائقہ, کسی حد تک تکلیف دہ اورغیر دلچسپ ہیں کیونکہ اکثر لوگوں کا ذوق لذات ترقی نہیں کر پاتا اور  ادنٰی درجےکی دنیاوی  لذات  پر ہی ٹھہرا  رہتا ہے   - لیکن اب آپ ایک رقیق القلب انسان ہیں اور آپ کو '' کھڑوس اور سنکی '' کہلائے  جانے کی عادت ہو گئی ہے - اس لئے پہلے ہی لوگوں کو اس بات سے متنبہ کر دیتے ہیں کہ آپ کے ساتھ رہنا  کوئی آسان کام نہیں ہوگا - 

 

آپ خود کو بھی معاف کرنا سیکھ لیتے ہیں اور یہ بات جان لیتے ہیں کے ماضی  کی کوتاہیوں  پر خود  کو ملامت کرنا کوئی عقلمندی نہیں -آپ خود اپنے ہی ایک  اچھے دوست بن جاتے اور جانتے ہیں کے کبھی کبھار بیوقوفی بھی کر لیتے ہیں، مگر ایسا کون  نہیں کرتا ؟ 

 

آپ یہ بات جانتے ہیں کے آپ کے اندرکا وہ ضدی اور ہٹ دھرم سا بچہ کہیں نہ کہیں ضرور آپکی اس سلجھی ہوئی پختہ شخصیت کا ایک حصہ بن کر رہے گا - اس حقیقت کو تسلیم کرتے هوئے آپ خود کو ہر موقع پر ایک سنجیدہ مزاج  انسان کے طور پرہی  نہیں رہنے دیتے بلکہ موقع کی  مناسبت سے اپنے اندر کے اس بچے کو بھی باہرلینے دیتے ہیں کیونکہ سب ہی پرانے وقتوں کو کبھی کبھ دوہرانہ ا پسند کرتے ہیں - 

 

آپ بڑے بڑے پلان بنا کر خوش ہونے کی بجائے  کم وقت کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں خوشیاں اور سکون حاصل کرتے ہیں - کیونکہ خوشی چھوٹی چھوٹی سی چیزوں میں ہوتی ہے جب ہم یہ سوچنا چھوڑ دیتے ہیں کہ زندگی میں کتنے لمحے باقی  ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ ہر  ایک گزرتے  لمحے میں کتنی زندگی ہے - آپ ہرگزرنے والے خوبصورت دن کے لئے شکر گزر رہتے ہیں ، صبح کی تازہ ہوا ، افق پر شام کی لالی او پھولوں میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں اور ان ہی چھوٹی چھوٹی خوبصورتیوں اور خوشیوں  میں اطمینان قلب حاصل کرتے ہیں - 

 

آپ کو اس بات کی پرواہ نہیں رہتی کہ لوگ آپ کے کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں  کیونکہ اکثر لوگوں  کے ذہن ایک الجھی ہی بے ربط سے جگہ کی طرح ہوتے ہیں - آپ ہر ایک کی نظر میں خود کو اچھا بنانا چھوڑکر  ہردل عزیزی   کا  شوق ترق کردیتے ہیں - آپ کے لئے بس اتنا اہم رہ جاتا ہے کے وہ چند لوگ جو آپ کو  آپ کی اصل حالت اوراس تکلیف دہ  شخصیت کے ساتھ بھی بہت  پسند کرتے ہیں وہ کیا سوچتے ہیں  کیونکہ  آپ کی نظر میں شہرت سے زیادہ خالص پیار کی اہمیت ہے ، چاہے وہ  ایک آدھا جگہ سے ہی میسرکیوں نہ  ہو - 

 

آپ لوگوں کا رد عمل زیادہ بہتر انداز سے قبول کرنے لگاتے ہیں - کیونکہ اچھا ہو یا برا ، رد عمل اس بات کی علامت ہے کہ آپ کی بات کو اہمیت دی گئی ہے - آپ مثبت تنقید کو بھی پسند کرنے لگتے ہیں جو خود میں بہتری لانے کے لئے بے حد ضروری ہوتی ہے اور اب آپ منفی تبصرے اور طنز   کی زیادہ پرواہ کرنا چھوڑ دیتے ہیں  کیونکہ ہر جگہ کسی نہ کسی ماںنے  کوئی نہ کوئی ایسا  سپوت ضرورپیدا کیا ہوتا    ہے  جسےاپنے علاوہ  کچھ پسند نہیں آتا- 

 

آپ اپنا رد عمل فوری ظاہر نہیں کرتے ، اکثر روک کر اور سوچ سمجھ کر لوگوں کے تکلیف دے رویہ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنا جوابی رد عمل بٹر سے بہتر بناتے چلے جاتے ہیں- اپنے ماضی کی تکلیف دہ یادوں سے سیکھتے ہوئے صورت حال کو بہتر بننے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں - اس کے لئے چاہے آپ کو اپنے جذبات پر قابو پانا پڑے یا خلاف معمول تھوڑا مزاج بدلنا  بھی پڑے تو بدل لیتے ہیں - 

 

دوستی کی شروعات میں ہی آپ یہ بات جانتے ہیں کہ لوگ آپ کی اچھی خبریں اور کامیابیوں سے زیادہ آپ کے مسائل اورآپکی  تکلیفوں میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں تاکہ وہ اپنی پریشانیاں کے درد میں کمی محسوس کر سکیں -آپ درد بانٹنے لگتے ہیں کیونکہ دوستی اسی کا نام ہے - 

 

آخر میں سب سے بڑھ کر ایک سلجھی ہوئی  اور پختہ سوچ کی مالک شخصیت کی نشانی یہ بھی ہے کہ آپ اپنی پریشانی اور اضطراب کی کیفیت  پر قابو پا لینا سیکھ لیتے ہیں -کیونکہ آپ اپنے تجربے کی بنا پر اس بات سے بخوبی آگاہ ہوتے ہیں کہ اب آپ مشکل  کا سامنا کرنے کی بہتر صلاحیت اور قابلیت رکھتے ہیں - آپ کے چند قابل بھروسہ دوست اور ساتھی بھی ہیں جن کے ہوتے هوئے اور بھی آسانی سے ہر مشکل کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے - ویسے بھی  تجربے سے  ثابت ہو چکا ہے کے انتہائی خطرناک صورت حال آخر میں اتنی خطرناک اور تکلیف دہ ثابت نہیں ہوتی - 

 

کاشف  احمد