Wednesday, 16 August 2017

Seed

ایک بیج کا عظیم ترین اظہار اس کہ مکمّل طور پر کھل جانے میں ہوتا ہے جب اس کا خول ٹوٹ جاتا ہے اور سب کچھ باہر آجاتا ہے اور مکمّل بدل کر ایک تن آور درخت بن جاتا ہے،  جولوگ بالیدگی اور ترقی کر کرکے  بڑےہونے  اور تن آور ہو کر بڑا ہو جانے کا مطلب نہیں جانتے وہ بیج کہ اس عمل کو اس کی مکمّل تباہی ہی کہتے ہیں
For a seed to achieve its greatest expression, it must come completely undone. The shell cracks, its insides come out and everything changes. To someone who doesn't understand growth, it would look like complete destruction - Cynthya Occelli

Omnibus

Tuesday, 15 August 2017

Our lives

ہماری زندگی کا خاتمہ ہونے لگتا ہے جب ہم بولنے کی جگہ پر چپ سادھ کہ بیٹھ جاتے ہیں
"Our lives begin to end the day we become silent about things that matter." - Martin Luther King, Jr. 

Omnibus


Saturday, 22 July 2017

ایسا کیوں ہے؟

ایسا کیوں ہے کہ ، ہمیشہ سب کچھ  ویسے ہی کیا جانا چاہیے جیسے کیا جاتا ہے یا جیسے آج تک کیا جاتا رہا ہے ؟
یہ کیوں ضروری ہے کہ روز صبح اٹھ کر تیار ہو کر گھر سے نکل کر کام پر جاؤ؟ کیا کام پر جانے سے ہی پیسے کمانے کا مقصد پورا ہوتا ہے ہے؟
یا پھر روز صبح اسکول کالج جانے سے ہی انسان.. انسان بنتے ہیں ؟ کیا جو لوگ کبھی اسکول نہیں جاتے وہ انسان نہیں ہوتے؟ یا انسان نہیں بن پاتے

کیا لائن میں لگ کے ٹکٹ لینا بل جمع کروانا ضروری ہے ؟ کیونکہ ، سب ایسے کہتے ہیں ؟ یا یہی سہی طریقہ ہے؟ کبھی کسی لیڈر کو لائن میں لگے دیکھا ہے؟ ان کے بل کیسے جمع ہوتے ہیں ؟ ٹکٹ کیسے ملتے ہیں ان کو؟
ٹریفک کے اصول کی پابندی لازمی کیوں ہے ؟ سرخ بتی پے رک جانا سبز پر چل پڑنا ہمیشہ زیبرا کراسنگ سے سڑک پار کرنا کیوں ضروری ہے؟
کبھی کسی لیڈر کو دیکھا سرخ بتی پے؟ یا زیبرا کراسنگ پے؟

جتنے بھی ہیرو یا لیڈرز ہیں وہ عام زندگی کیوں نہیں گزارتے؟
ہم جانتے ہیں وہ ایسا نہیں کرتے نہ کر سکتے ہیں وہ مختلف ہیں تبھی ہیرو ہیں یا لیڈر ہیں اور دنیا انکو تسلیم کرتی ہے مگر سبق کچھ اور بن جانے کا دیتی ہے

اچھا شہری ، اچھا محنتی انسان جو وقت پے جاگے  اسکول جاتا ہو پورے ٨ گھنٹے کام پے رہے اسکول کے سارے پیریڈ پڑھے کام کرے تو جتنا کام ملے جو حکم ملے بجا لاے

حکم دینے والا کام دینے والا نہ بنے نہ ایسا بننے کا سوچے اگر ایسا کرے تو بغاوت سر کشی مگر یہی لوگ فلم دیکھتے ہے کوئی کہانی سنتے ہے ہیرو کی بغاوت پے تالیاں اور سیٹیاں بجا رہے ہوتے ہیں

لیکن بس فلم کی حد تک کہانی کی حد تک یا کسی بہت اچھی تقریر کی حد تک کبھی یہ نہیں سوچتے کہ میں خود اس جگہ کیوں نہیں میں وہ تقریر کیوں نہیں کر سکتا؟ میں وہ ہیرو کیوں نہیں ہو سکتا ؟
صرف اس لئے کہ میں تو عوام میں سے ہوں میرا کام تو لائن میں لگنا ہے انتظار کرنا کام کرنا ہے
ہینا؟

ہم دیسی

ہم دیسی لوگ مرچیں پسند کرنے والے لوگ ہیں
مرچیں کھانا کھلانا ار لگانا ہمارا پسندیدہ مشغلہ ہوتا ہے
چاہے جگت میں ہو شغل میں یا ہانڈی میں 

درد سے پیار تکلیف میں مزہ لینے والے عجیب سے لوگ
ہمیں درد بھرے گانے اچھے لگتے ہیں سوز و گداس سے پیار ہے
سریلا پن اچھا لگتا ہے جو سوز کے بنا آ ہی نہیں سکتا
کبھی بارش میں اپنی چھتری دوسرے کو دے دیتے ہیں اور
 کبھی بلکل نۓ پیکٹ میں پرانی چیز بیچ دیتے ہیں

ہم ابھی گاڑی چلانا سیکھ رہے ہیں تھوڑے اناڑی ہیں اور تھوڑے کھلاڑی
رک رک کہ کبھی تیزی سے چلتی ہے ہماری زندگی کی گاڑی

بہت مزے سے زندگی کی اس رک رک کے چلتی گاڑی کو کبھی دھکّےتو کبھی جگاڑ سے چلاتے ہیں کیونکہ چلتی کا نام ہی تو گاڑی ہے

ہمیں سمجھنا آسان نہیں اور جتنا سمجھ آتی جاتی ہے اتنی حیرانگی ہوتی جاتی ہے عجیب ہیں ہم لوگ ہمیں دل سے سمجھنا پڑتا ہے دماغ بیچارہ تو بس ہمیں جاہل گنوار اور وحشی کہتا ہے

عجیب الٹی سیدھی سی یہ زندگی ہماری تھوڑی سچائی تھوڑی نادانی اور تھوڑی بےایمانی سے بنی ہے
آنسو اور کچھ سپنے دونوں ہی مل جاتے ہیں ایک ساتھ ہماری آنکھوں میں کیونکہ دونوں ہی اپنے ہیں
اور ان کے ساتھ تھوڑی مجبوریاں  ہیں اور من مانیاں بھی ہم ان کہ بنا بھی نہیں رہ سکتے مجبور چاہے جتنے بھی ہوں من مانیاں سے نہیں رہ سکتے

ہم دیسی لوگ تو تو ..میں میں بھی بہت کرتے ہیں اور بہت سی باتیں ہم میں دیوانوں جیسی ہیں
ہمیں ویلیتی لوگ اسی لیے کبھی سممجھ نہیں سکے بیچارے ہم پر اپنی منطق آزماتے ہیں دماغ لڑاتے ہیں اور ہم تو دماغ اور
منطق سے باہر کہ لوگ ہیں



مگر کب تک؟ ہم دیسی بھی بہت ، شوق سے ویلیتی بنتے ہیں، پتہ نہیں کیوں دل کی چھوڑ کہ دماغ کی سننے لگتے ہیں ، اپنے سارے طور طریقے بدلتے ہیں کہیں سے دیسی نہ نظر آئیں مگر بن نہیں پاتے کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی کونے سے دیسی پنا کبھی نہ کبھی ضرور جھلک جاتا ہے جیسے وہ خواجہ سرا ہوتے ہیں نہ بس ویسے ہی

Thursday, 20 July 2017

Dead and the Alive

تجسس ، خاص طور پر دانشورانہ فکر اور استفسار ان لوگوں کو ایک دوسرے سے الگ کرتا ہے جو زندہ ہیں اور جو صرف زندہ دکھائی دیتے ہیں اپنے جسم کی حرکت کی وجہ سے - ٹام روببینز
Curiosity, especially intellectual inquisitiveness, is what separates the truly alive from those who are merely going through the motions.-Tom Robbins 

Omnibus

Saturday, 8 July 2017

Trust the physician

درد اور تکلیف  ذات کا خول توڑکر سمجھادری میں اضافہ کرتی ہے یہ ایک کڑوی زہر دوا ہے جس سے آپ کہ اندر کا معالج آپ کہ روحانی طور پر  بیمار وجود کا علاج کرتا ہے - اپنے معالج پر بھروسہ کرو اور چپ چاپ سکون سے علاج کرواتے جاؤ - خلیل جبران
Your pain is the breaking of the shell that encloses your understanding. It is the bitter potion by which the physician within you heals your sick self, so therefore, trust the physician and drink his remedy in silence and tranquillity. - Khalil Gibran

Omnibus

Ego Traps

Omnibus