Monday, 2 October 2017

Stop

کچھ بھی ایسا نہ ہونے دو جو تمہارا دھیان اپنے اصل مقصد سے ہٹا دے 
مگر اس سے قبل اپنے مقصد کو پہچان لینا اور اپنی سمت درست رکھنا
Omnibus

Tuesday, 12 September 2017

اندر کا گند

لگتا ہے ہمیں اپنے اندر کا گند سب سے زیادہ عزیز  ہے - ہمیشہ اسے چھپا کے رکھنے سمبھال کے رکھنے میں لگے رہتے ہیں کبھی تہذیب یافتہ نظر آنے کی اوٹ میں کبھی صاف گو نظر آنے کی اوٹ میں کبھی بہت سمجھدار اور علم جھاڑنے والے نظر آنے کی اوٹ میں ہر موقع ہر شخص ہر جگہ نئی قسم کی اوٹ میں لے جاتے ہیں بڑی  بڑی  باتیں کر کہ یا پھر کسی تازہ سنسنی خیز خبر یا رواج یا کسی نئے فیشن یا سٹائل یا ٹرینڈ کا ذکر چھیڑ کر 

اور جب کسی گند نکلنے والے سے واسطہ پڑ جاۓ تو جلدی سے بہت اچھی سی اوٹ میں چھپ جاتے ہیں بڑی سعادت مندی سے سن بھی لیتے ہیں کبھی مجبوراً- مگر جب بھی یہ بیچارہ گند صاف کرنے والا جمعدار تھوڑی زیادہ کوشش کرنے لگے زیادہ گہرا ہاتھ ڈالے تاکہ جڑ سے گند باہر نکال سکے کیونکہ کبھی کبھی یہ گند بہت گہرا ہو تو زور لگانا پڑتا ہے سختی اور مضبوطی سے ہاتھ ڈال کر 

اور ایسا جب بھی ہوتا ہے تو ہمیں گند اتنا عزیز ہے کہ بھاگ نکلتے ہیں کبھی کہیں کسی مصروفیت کو ایجاد کر کہ کبھی کوئی مجبوری ایجاد کر کہ جانتے بوجھتے ہوے بھی کہ یہاں سب سے بڑااور اھم کام گند صاف کر کہ دوسروں کو صاف
کرنے کا ہے دوسرا کوئی کام اس سے زیادہ اھم نہیں

 ہم اتنے پکّے ہیں اتنے پر یقین ہیں کہ کوئی گند تو کیا غلط اور میلی چیز بھی نہیں ہمارے قریب پاک صاف دودھ کہ دھلے ہیں ہم- اسی لئے ہمیں کسی ایسے گند نکلنے والے صفائی کرنے والے کی کوئی ضرورت نہیں البتہ اپنی جگہ جو بھی ہو گھر دفتر یا کوئی اور وہاں بار بار صفائی کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ صفائی تو نصف ایمان ہے نہ مگر صرف ظاہری صفائی ہی کیوں ؟

اندر کا گند تو سمبھالنے کی چیز ہے سب سے عزیز سب سے پیاری جس کو ہم تنہائی میں اکیلے میں اکثر کام میں لاتے ہیں  بہت احتیاط کے ساتھ سمبھل کہ کسی کو بلکل شق نہ ہو 

یہ مسئلہ آج سے نہیں بہت پہلے سے ہے انسان زیادہ بدلا نہیں بس تہذیب کا لبادہ اوڑھ لیا ہے جب بھی دنیا میں کوئی بھی
 بیچارہ گند صاف کرنے والا آیا اچھائی پھیلانے والا روشنی دینے والا اسے ایسے ہی انسانوں سے واسطہ پڑتا رہا 
یہ کون ہوتا ہے ہمیں بتانے والا ، ہمارے آباؤ اجداد یہ سب کرتے-وہ دیکھو ، وہ سب بھی ایسے ہی کرتے ہیں ، رسم دنیا ہے  یہی جواب دیتے ہیں ، خود کو بھی اسی سے بہلاتے ہیں  آے ہیں ہم کیوں نہ کریں ، ہم نے تو ان سے یہی سیکھا ہے یہ کہاں سے آ گیا بتانے والا اور اگر سارے  آباؤ اجداد اور یہ سارے ایسے کرنے والے  گھاٹا کھانے والے اور جہنمی ہیں تو ہم بھی جہنمی کوئی مسلہ نہیں 
یہ صرف ظاہری صفائی کرنے والے سے بچ کہ نہیں رہتے یہ اندر کی صفائی کرنے والے سے بھی خود کو بچا کہ رکھتے ہیں اگر سامنے آ بھی جاے تو کوشش یہی ہوتی ہے بچ کہ نکل جاؤ  جان چھڑاؤ
 بلکل جیسے گھر کی صفائی والا جمعدار دیکھ کر دور دور  سے سلام ، ہاتھ بھی ملانا قریب نہیں جانا زیادہ 

Monday, 11 September 2017

Unexpressed

“Unexpressed emotion will never die. They are buried alive and will come forth later in uglier ways.” ~Sigmund Freud.
دبے ہوۓ  جذبات مرتے نہیں زندہ دفن ہو جاتے ہیں اور پھر بہت تکلیف دہ انداز میں لوٹ آتے ہیں - سگمنڈ فرویڈ

Omnibus

Friday, 25 August 2017

چالاک اور عقلمند

کسی نے جب یہ کہا کہ میں تم سے زیادہ عقلمند ہوں تو جواب ملا نہیں تم مجھ سے زیادہ چالاک ہو  - واقعی عقلمند کبھی خود کو کسی سے زیادہ عقلمند نہیں کہتا بلکہ وہ تو خود کو عقلمند سمجھتا ہی نہیں- چالاکی عقلمندی نہیں ہوتی- اسی لیے ہمیشہ عقلمند ہونا سہی ہوتا اور سہی سمجھا جاتا ہے - چالاک تو لومبڑی ہوتی ہے اسی لیے چالاکی کو پسند نہیں کیا جاتا مگر ایسا کیوں ہے کہ لوگ چالاکیاں کرنے اور سیکھنے پر لگ جاتے ہیں؟

اس لیے شائد کہ چالاکی اور تیزی کو آج کل سب سے کار آمد حکمت عملی سمجھا جانے لگا ہے اور یہی سمجھ بڑھتے بڑھتے اب اسی حکمت عملی کو صرف حکمت دانائی اور عقلمندی کی شدید غلط فہمی بنا چکی ہے - لوگ جانتے بوجھتے ہوے بھی عقلمند بن نے سے زیادہ چالاک ہونےکو ترجیح دینے لگے ہیں

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس سے مقاصد کہ حصول میں تیزی آ جاتی ہے جلدی سے دولت طاقت شہرت مل جاتی ہے مگر جتنی جلدی ملتی ہے اتنی جلدی چلی بھی جاتی ہے کیونکہ جلدی کا کام شیطان کا ہے
 اسی لیے کہتے ہیں نہ کہ سہج پکے سو میٹھا ہو - ہر اچھی چیز وقت لیتی ہے جیسے  فیکٹری میں ایک کرولا گاڑی ١٨ گھنٹے میں تیار ہو جاتی ہے مگر ایک رولز رائس ١٨ ماہ میں تیار ہوتی ہے

اب آپ کہیں گے کرولا کے دیوانے بھی بہت  ہیں  مگر میں کہوں گا کہ بندر کیا جانے ادرک کا مزہ

وقت لے کر دھیرے دھیرے پکنے والی خوراک کو صحت بخش اور بہت  مزیدار اور پسندیدہ کھانا سمجھا جاتا ہے لیکن آج کل تو فاسٹ فوڈ کا زمانہ ہے نہ جلدی سے بن جاتا ہے اور بہت لوگ اس کو مزیدار بھی کہتے ہیں مگر سوچتے نہی  کہ یہ جلدی کی عادت فاسٹ فوڈ کی پسند ایک سوچی سمجھی مارکیٹٹنگ پالیسی ہے جس کی وجہ صرف خریدار بنانا ہے

اشتہار میں فلموں میں ہیرو کو نشہ کرتے تیزی  طراری دکھاتے فاسٹ فوڈ کھاتے اور بد تمیزی بیہودگی کرتے دکھا کہ کامیاب ہوتا دکھا دکھا کر عوام کو سمجھا دیا گیا ہے کہ کامیابی کا راستہ کیا ہوتا ہے مکھن کی جگہ بلو بینڈ زائدہ فائدہ دیتا ہے گھی نہ کھاؤ آئل زیادہ طاقتور ہے بناسپتی گھی دیسی گھی سے زیادہ اچھا ہے اور سب جانتے ہوے بھی جان بوجھ کر اسی پے عمل کیا جاتا ہے جو غلط ہے ہم ایک سعادت مند خریدار تو بن سکتے ہیں مگر فرامنبردار اور ماننے والا شخص نہیں بنا جاتا

فاسٹ فوڈ کہ مضر اثرات بھی دیکھتے ہیں اور جانتے ہیں- یہ بھی جانتے ہیں کہ جلدی کا کام شیطان کا ہوتا ہے مگر جانتے بوجھتے ہوے غلط کام غلط چیز پسند کرتے ہیں- اور جان بوجھ کر غلط کام کرنے والے کون ہوتے ہیں ؟

Thursday, 24 August 2017

Nonsense

The older you get, the more quiet you become. Life humbles you so deeply as you age. You realise how much nonsense you've wasted time on.
جیسے جیسے انسان واقعی بڑا اور بھوڑھا ہوتا ہے  اسے خاموشی سے پیار ہونے لگتا ہے زندگی عمر کہ ساتھ ساتھ آپ میں نرمی لچک اور عاجزی لے آتی ہے جو گہری  سے گہری ہونے لگتی ہے اور آپ کو احساس ہو جاتا ہے کہ کتنی فضولیات میں وقت برباد ہوا  

ایسا ہی ؛ لگتا ہے ؟ اب سے چند سال قبل مڑ کے دیکھیں کیا وہی شوق ووہی پسند ہوتی تھی جو اب ہے؟  کیا اب بھی کارٹون والی پنٹ یا شرٹ یا سپر مین والا کاسٹیوم یا ایسا ہی کچھ پسند ہے اپنے لئے؟  نہیں نہ؟ پھر جو کوئی آپ سے زیادہ سنجیدہ اور بڑا ہو اس پہ حیران کیوں ہوتے ہیں؟ اس کا یقین کیوں نہیں کرتے؟ کیا سنجیدہ اور مختلف پسند کرنے کے لئے کوئی عمر کی شرط ہے؟ یا پھر اگر آپ کے شوق اور پسند نہیں بدلے تو کوئی اور کیسے بدل سکتا ہے ؟

اگر کسی کو پہلے احساس ہو گیا کہ کون کون سی چیزیں اور کام فضولیات میں آتے ہیں تو کیا یہ نہ قابل قبول بات ہے؟ 


Wednesday, 16 August 2017

Seed

ایک بیج کا عظیم ترین اظہار اس کہ مکمّل طور پر کھل جانے میں ہوتا ہے جب اس کا خول ٹوٹ جاتا ہے اور سب کچھ باہر آجاتا ہے اور مکمّل بدل کر ایک تن آور درخت بن جاتا ہے،  جولوگ بالیدگی اور ترقی کر کرکے  بڑےہونے  اور تن آور ہو کر بڑا ہو جانے کا مطلب نہیں جانتے وہ بیج کہ اس عمل کو اس کی مکمّل تباہی ہی کہتے ہیں
For a seed to achieve its greatest expression, it must come completely undone. The shell cracks, its insides come out and everything changes. To someone who doesn't understand growth, it would look like complete destruction - Cynthya Occelli

Omnibus

Tuesday, 15 August 2017

Our lives

ہماری زندگی کا خاتمہ ہونے لگتا ہے جب ہم بولنے کی جگہ پر چپ سادھ کہ بیٹھ جاتے ہیں
"Our lives begin to end the day we become silent about things that matter." - Martin Luther King, Jr. 

Omnibus