Wednesday, 7 February 2018

خوشی حاصل کرنے کہ چند آسان طریقے

لوگوں سے میل جول انسان ہونے کا ثبوت ہوتا ہے ہم اکثر صرف چند گنتی کہ لوگوں سے ملتے ہیں اس کے با وجود کہ تعرف اور جان پہچان کافی لوگوں سے ہوتی ہے 

کبھی ارد گرد نظر دوڑائیں تو آپ کو بہت سے ایسے لوگ نظر یں گے جن سے روز سامنا  تو ہوتا ہے مگر بات چیت نہیں ہوتی شائد اس لیے کہ اجنبیوں سے دور رہنا ہی سکھایا گیا ہے 

میں یہ نہیں کہتا کہ اجنبی لوگوں سے خوب گھل مل کر دوستی کرتے رہنا خوشی حاصل کرنے کے لئے بہت ضروری ہے اجنبی کبھی کبھار بہت عجیب و غریب بھی نکل آتے ہیں لیکن  کبھی کبھار آتے جاتے راستے میں صرف ہیلو کہ کے مسکرا دینا یا بہتر ہے کہ مسکرا کہ سلام کر دینا خاص طور پر ان کو جن سے روز یا اکثر سامنا ہو جاتا ہے 

کبھی اپنے آفس کی لفٹ میں داخل ہوتے ہے مسکرا کے ایسا کر کے دیکھیں اور کبھی اگر بس میں موجود ڈرائیور یا کنڈکٹر کا حال پوچھ لیں جس سے اکثر ہی ملاقات ہوتی ہے 

یا اس دکاندار جس سے اکثر کچھ نہ کچھ خریدتے ہیں اس کے گھر کی خریت دریافت کریں 

کبھی کبھی روز آپ کے کمرے کی صفائی کرنے والے کا لئے کچھ مٹھائی رکھ کہ شکریہ کا نوٹ چھوڑ جائیں 

سنا ہے مصر میں لوگ دیوار پہ اشتہار بازی یا ' یہاں پیشاب کرنا منع ہے ' کی بجاے بہت خوبصورت آرٹ تخلیق کر دیتے ہیں فری میں  یا کوئی اچھی بات لکھ دیتے ہیں 

اور تو اور کوئی تو بہت شنادار سا آرٹ اپنی کڑھائی شدہ چیزوں کا دیوار یا درخت سے لگا جاتا ہے 

اسی طرح ایک عرب ملک میں لوگ گھر کے باہر فرج  لگا کر اس میں کھانے پینے کا سامان رکھا  چھوڑ دیتے ہیں کہ شائد کوئی آتے جاتے گرمی میں مجبور یہاں سے کھا لے گا 

ہمیں خوشخبری دینے کا حکم ہے ہم اگر صرف ارد گرد ایک اچھی مسکراہٹ سے سلام کر کے کسی کہ گھر کے باہر کی کیاری یا دکان کی آرائش یا پھر کسی کی سواری کی اور لباس کی تھوڑی تعریف کر دیا کریں تو جو خوشی حاصل ہوگی وہ پیسے خرچ کر دینے سے کہیں زیادہ ہے 


Friday, 29 December 2017

You don't grow

کسی کی خوشی اور آرام کی خاطر خود کو سکیڑکرچھوٹا کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں - جو لوگ بڑا انسان بننے سے انکار کرتے ہیں ان کے لئے اپنا آپ چھوٹا مت کرو 
 “Don't you dare shrink yourself for someone else's comfort – Do not become small for people who refuse to grow.”
Omnibus

Saturday, 23 December 2017

عقیدت اور وابستگی کی باریک راہیں

آپ  کبھی فجر کی نماز کے بعد کسی ان پڑھ عام سے کپڑے پہنے کسی دیہاتی کو جسے وضو اور غسل کے فرائض سے بھی شاید پوری طرح واقفیت نہ ہو وہ جب نماز کے بعد قرآن پاک پڑھنےکے لیے کھولے گا تو قرآن پاک کا غلاف کھولنے سے پہلے دو بار اسے آنکھوں سے لگائے گا اور چومے گا ۔

اس کی اس پاک کتاب سے عقیدت اور محبت دیدنی ہوتی ہے ۔وہ قرآن پاک میں لکھی عربی کی آیات کی معانی سے واقف نہیں ہوتا لیکن وہ جس محبت سے اسے پڑھ رہا ہوتا ہے وہ قابلِ رشک ہوتا ہے ۔  

اشفاق احمد زاویہ ٣ لچھے والا صفہ ٢٩ 


بابا جی کی یہ بات پڑھ کے مجھے حضرت موسیٰؑ کا وہ واقعہ یاد آ گیا جو سب نے ہی سنا ہے 

حضرت موسیٰؑ ایک دن جنگل میں جا رہے تھے۔ آپؑ نے دیکھا کہ ایک بھیڑ بکریاں چرانے والا (گڈریا) دست بستہ کھڑا ہے اور بڑے شوق سے کہہ رہا ہے کہ اے خدا میرے پا س آ کر بیٹھ تاکہ میں تیری جوتی سیئوں، تیرے سر میں کنگھی کروں، تیری جوئیں ماروں، میں تیرے ہاتھ پائوں دھوئوں، تجھے نہلائوں، صاف ستھرے کپڑے پہنائوں اور تجھ پر قربان ہو ہو جائوں۔ اگر تو میرے پاس آئے تو میں اپنا کمبل بچھا کر تجھے اس پر بٹھائوں اور بکریوں کا تازہ تازہ گرم گرم دودھ تجھے پلائوں۔ اگر تو بیمار ہو جائے تو میں تیری اپنوں کی طرح خدمت کروں، تیرے ہاتھ چوموں، تیرے پائوں دبا کر تجھے میٹھی نیند سلائوں۔ جب صبح خواب استراحت سے بیدار ہو تو تیرا منہ دھلائوں۔ تیرے کھانے کیلئے قورمہ، قلیا، پلائو، پنیر، کوفتے، مکھن ملائی اور کھیر تیار کرائوں، اپنے ہاتھ سے تجھے کھلائوں۔ اگر تو مجھے اپنا گھر دکھا دے تو میں تازندگی صبح و شام تیرے ہاں دودھ اور مکھن پہنچا دیا کروں۔ میری تمام بھیڑ بکریاں تجھ پر قربان۔ حضرت موسیٰؑ نے اس کی یہ مستانہ باتیں سنیں اور قریب جا کر پوچھا کہ تو کس سے یہ باتیں کر رہا ہے، تو کس کا میزبان بننا چاہتا ہے، تجھے کس کو اپنے ہاں دعوت پر بلانے کی اس قدر آرزو ہے؟ گڈریا بولا۔ میں اس سے ہمکلام ہو رہا ہوں جو میرا پیدا کرنے والا ہے جس نے مجھے بولنے کے لیے زبان دی۔ مجھے یہ بھیڑ بکریاں عطا کیں۔ جن کے دودھ کو میں اپنی غذا اور جن کی پشم سے میں اپنالباس بناتا ہوں۔ جس نے مجھے یہ چیزیں دی ہیں میں اسی کے دیئے سے اس کی دعوت کرنا چاہتا ہوں اگر وہ مجھ غریب کے گھر تشریف لے آئے تو میں خوشی سے پھولے نہ سمائوں۔ میری آبرو بڑھ جائے گی اور اس کی شان میں کچھ فرق نہ آئے گا۔ 

حضرت موسیٰؑ نے کہا۔ گڈریے! تیرا کلام بڑا گستاخانہ ہے تو خدا سے ایسی باتیں کر رہا ہے۔ وہ تو سب کا رازق ہے اسے کسی کھانے کی احتیاج نہیں۔ نہ وہ تھکتا ہے نہ اسے نیند آتی ہے۔ تو اس کے پائوں کیا دبائے گا تو کیا سمجھا کہ اس کا تیرے جیسا جسم ہے؟ جان لے اور یقین کرلے کہ اس کا کوئی جسم نہیں۔ اس کے تیرے جیسے ہاتھ پائوں نہیں وہ سب چیزوں سے بے نیاز ہے۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ وہی سب کا حاجت روا ہے۔ وہ تیرے پاس کمبل پر بیٹھ کر تیری بکریوں کا دودھ نہیں پی سکتا۔ بس ایسے بے ادبانہ کلام سے توبہ کر۔ 

حضرت موسیٰؑ نے اس غریب گڈریے کو اس قدر دبایا کہ وہ بالکل سہم گیا اور کہنے لگا اے موسیٰؑ تو نے میری زبان بند کر دی۔ میرا منہ سی دیا اور پشیمانی پیدا کر کے میرا دل جلا دیا۔ پس وہ چیخ مار کر اور کپڑے پھاڑ کرایک طرف جنگل کونکل گیا اور نبی وقت کا حکم سن کر اس نے اللہ سے اپنی شوق بھری ہمکلامی چھوڑ دی اور اپنا ارمان دل ہی دل میں دبا کر بیٹھ رہا۔وہ گڈریا پڑھا لکھاآدمی نہ تھا کہ سوچ سمجھ کر شائستہ بات کرتا ہاں اس کے دل میں خدا کی محبت ضرور تھی اور وہ کمال شوق سے اسی کا اظہار کر رہا تھا۔ خدا کو اس کی یہ ذوق و شوق کی باتیں پیاری لگتی تھیں۔ جب وہ ان سے رک گیا تو اللہ تعالیٰ کو ناگوار معلوم ہوا۔ فوراً اس نے اپنے کلیم (حضرت موسیٰؑ)کی طرف وحی بھیجی کہ تو نے ہمارے ایک محب کو ہم سے جدا کر دیا۔ اے موسیٰؑ ہم نے تجھے اس لیے نبی بنایا تھا کہ تو بندوں کوہم سے ملائے مگر تو نے اپنے فرض منصبی کو چھوڑ کر اور راہ اختیار کر لی۔ اے موسیٰؑ ہم نیتوں کو دیکھتے ہیں عملوں کو نہیں دیکھتے۔ ہماری نظر حال پر ہے قال پر نہیں۔ ہمیں دلی سوز کی قدر ہے لفظوں کا خیال نہیں۔ جا اور ہم سے جدا کردہ بندے کو پھر اپنے شغل میں لگا کہ ہم کو وہی محبوب ہے۔ 

حضرت موسیٰؑ یہ حکم الٰہی سن کر پھر جنگل کو آئے اور بعد از تلاش بسیار اس گڈریے کو ڈھونڈا اور کہا بھائی! اپنی مناجات میں لگے رہو اور جو میں نے تمہیں روکا تھا اس کا کچھ خیال نہ کرو۔ تمہاری محبت اور سوز میں ڈوبی ہوئی باتیں خد اکو پیاری لگتی ہیں۔ اپنے شغل میں مصروف رہو اور مجھے معاف کر دو کہ میں تمہارے وظیفہ میں خلل انداز ہوا۔اللہ تعالیٰ نیتوں کو دیکھتا ہے۔ ظاہری اعمال پر اس کی نظر نہیں۔

ایمان بھی دو طرح کا ہوتا ہے موٹا اور باریک - عقیدت کی پہچان اور خلوص کی سمجھ جب الله کے پیغمبر کے لیے مشکل ہو گئی تو عام انسان کس کھیت کی مولی  ہے ؟ جو صرف سطح تک دیکھنے کی نظر رکھتا ہے گہرائی میں اترنے کی نہیں - یہ جو عقیدت اور وابستگی کی باریک راہیں ہیں ان کی پہچان اور پیمائش کسی ایسے شخص کے بس کی بات نہیں جو خود ان باریک راہوں کا مسافر نہیں جو صرف نیک نظر آنے کی کوشش کرتا ہے ... نیک ہوتا نہیں 

اور نیک نظر آنے کی کوشش الله کو راضی کرنے سے زیادہ لوگوں پر رعب جمانے یا  پھر ان میں نمایاں نظر آنے  کے لئے یا اپنے منصب کو نبھانے کی مجبوری کہ تحت یا پھر زیادہ سے زیادہ اس لئے کہ ارد گرد کہ  شریف نیک لوگوں میں بھرم قائم کرنے کے لئے مجبوراً ہوتی ہے 

ایسے ہی لوگ نیکی کے معنی کو مسخ کر کہ کمزور عقیدہ نازک مزاج لوگوں کو بھی دور بھگا دیتے ہیں اور مضبوط عقائد والے بھی ان سے بچ کے نکلتے ہیں کیونکہ یہی بظاھر نیک نظر آنے والے اپنے پاس موجود نیکی کی پیمائش کہ پیمانوں  کو نکال کہ فیصلہ صادر کر دیتے ہیں- 

گہرائی میں اتر کر باریک راہوں کی پہچان ان کے بس  کا کام نہیں کیونکہ اس کی پہچان تو بس الله کو ہے یہ جس کو وہ اس کی ہدایت اور ذوق سے نواز دے 

Wednesday, 13 December 2017

Monster

He who fights with monsters should look to it that he himself does not become a monsterوہ جو راکشس شیطانوں سے لڑتا ہے اسے اس بات کو یقینی بنا نا چاہیے کہ خود راکشس نہ بن جاے

کیونکہ اکثر وہ نفرت وہ جنون اور عسکریت اتنی بڑھ جاتی کہ قابو نہیں ہو پاتی اور بے جا بھی ظاہر ہوتی ہے 


Omnibus

Monday, 4 December 2017

جنّت اور جہنم کا فرق



ایک شخص نے الله سے جنّت اور جہنم کہ بارے میں  سوال کیا تو جواب ملا آ  تجھے دکھاؤں اور ایک جگہ دکھائی جہاں بڑی بڑی دیگیں پک رہی تھیں - مگر لوگ بھوکے پیاسے اور پریشان اور بد حال تھے فریادیں اور شکوے کر رہے تھے محرومی اور بھوکے ہونے کی کیونکہ جو کھانے کے بڑے چمچ تھے بہت لمبے تھے اور کسی طرح بھی ان کہ منہ تک نہیں پوھنچتے تھے کھانا بھی گرم تھا 
فرمایا یہ جہنم  ہے 

پھر اسی جیسی ایک اور جگہ دکھائی وہاں بھی بڑی بڑی دیگیں تھیں کھانا تھا اور ویسے ہی لمبے لمبے چمچ تھے مگر عجیب بات تھی کہ لوگ بہت خوش خرّم تھے ہشاش بشاش مطمئن اور شکر گزار 

فرمایا یہ جنّت ہے 

آدمی حیران ہوا کہ یہاں اتنی خوشحالی کیسے ہے  اور جنّت کے ایک  شخص سے پوچھا 'آپ اتنے خوش مطمئن اور ہشاش بشاش کیسے ہو اور اس جگہ کو جنّت کیسے بنا لیا ہے ؟

جنّتی نے مسکرا کر اتنا جواب دیا ' ہم نے ایک دوسرے کو اسی چمچ سے کھلانا سیکھ لیا ہے ' 

(ماخوذ)

Monday, 2 October 2017

Stop

کچھ بھی ایسا نہ ہونے دو جو تمہارا دھیان اپنے اصل مقصد سے ہٹا دے 
مگر اس سے قبل اپنے مقصد کو پہچان لینا اور اپنی سمت درست رکھنا
Omnibus

Tuesday, 12 September 2017

اندر کا گند

لگتا ہے ہمیں اپنے اندر کا گند سب سے زیادہ عزیز  ہے - ہمیشہ اسے چھپا کے رکھنے سمبھال کے رکھنے میں لگے رہتے ہیں کبھی تہذیب یافتہ نظر آنے کی اوٹ میں کبھی صاف گو نظر آنے کی اوٹ میں کبھی بہت سمجھدار اور علم جھاڑنے والے نظر آنے کی اوٹ میں ہر موقع ہر شخص ہر جگہ نئی قسم کی اوٹ میں لے جاتے ہیں بڑی  بڑی  باتیں کر کہ یا پھر کسی تازہ سنسنی خیز خبر یا رواج یا کسی نئے فیشن یا سٹائل یا ٹرینڈ کا ذکر چھیڑ کر 

اور جب کسی گند نکلنے والے سے واسطہ پڑ جاۓ تو جلدی سے بہت اچھی سی اوٹ میں چھپ جاتے ہیں بڑی سعادت مندی سے سن بھی لیتے ہیں کبھی مجبوراً- مگر جب بھی یہ بیچارہ گند صاف کرنے والا جمعدار تھوڑی زیادہ کوشش کرنے لگے زیادہ گہرا ہاتھ ڈالے تاکہ جڑ سے گند باہر نکال سکے کیونکہ کبھی کبھی یہ گند بہت گہرا ہو تو زور لگانا پڑتا ہے سختی اور مضبوطی سے ہاتھ ڈال کر 

اور ایسا جب بھی ہوتا ہے تو ہمیں گند اتنا عزیز ہے کہ بھاگ نکلتے ہیں کبھی کہیں کسی مصروفیت کو ایجاد کر کہ کبھی کوئی مجبوری ایجاد کر کہ جانتے بوجھتے ہوے بھی کہ یہاں سب سے بڑااور اھم کام گند صاف کر کہ دوسروں کو صاف
کرنے کا ہے دوسرا کوئی کام اس سے زیادہ اھم نہیں

 ہم اتنے پکّے ہیں اتنے پر یقین ہیں کہ کوئی گند تو کیا غلط اور میلی چیز بھی نہیں ہمارے قریب پاک صاف دودھ کہ دھلے ہیں ہم- اسی لئے ہمیں کسی ایسے گند نکلنے والے صفائی کرنے والے کی کوئی ضرورت نہیں البتہ اپنی جگہ جو بھی ہو گھر دفتر یا کوئی اور وہاں بار بار صفائی کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ صفائی تو نصف ایمان ہے نہ مگر صرف ظاہری صفائی ہی کیوں ؟

اندر کا گند تو سمبھالنے کی چیز ہے سب سے عزیز سب سے پیاری جس کو ہم تنہائی میں اکیلے میں اکثر کام میں لاتے ہیں  بہت احتیاط کے ساتھ سمبھل کہ کسی کو بلکل شق نہ ہو 

یہ مسئلہ آج سے نہیں بہت پہلے سے ہے انسان زیادہ بدلا نہیں بس تہذیب کا لبادہ اوڑھ لیا ہے جب بھی دنیا میں کوئی بھی
 بیچارہ گند صاف کرنے والا آیا اچھائی پھیلانے والا روشنی دینے والا اسے ایسے ہی انسانوں سے واسطہ پڑتا رہا 
یہ کون ہوتا ہے ہمیں بتانے والا ، ہمارے آباؤ اجداد یہ سب کرتے-وہ دیکھو ، وہ سب بھی ایسے ہی کرتے ہیں ، رسم دنیا ہے  یہی جواب دیتے ہیں ، خود کو بھی اسی سے بہلاتے ہیں  آے ہیں ہم کیوں نہ کریں ، ہم نے تو ان سے یہی سیکھا ہے یہ کہاں سے آ گیا بتانے والا اور اگر سارے  آباؤ اجداد اور یہ سارے ایسے کرنے والے  گھاٹا کھانے والے اور جہنمی ہیں تو ہم بھی جہنمی کوئی مسلہ نہیں 
یہ صرف ظاہری صفائی کرنے والے سے بچ کہ نہیں رہتے یہ اندر کی صفائی کرنے والے سے بھی خود کو بچا کہ رکھتے ہیں اگر سامنے آ بھی جاے تو کوشش یہی ہوتی ہے بچ کہ نکل جاؤ  جان چھڑاؤ
 بلکل جیسے گھر کی صفائی والا جمعدار دیکھ کر دور دور  سے سلام ، ہاتھ بھی ملانا قریب نہیں جانا زیادہ