Thursday, 12 April 2018

وہ باتیں جو صرف ہم مرد ہی سمجھ سکتے ہیں


جب کچھ زیادہ ہی ہرا ہونے لگے اور ہم کہیں ' مجھے اکیلا چھوڑ دو ' تو اس کا واقعی مطلب اکیلا چھوڑ دینا ہوتا ہے 


نہیں اس کا مطلب یہ ہرگز یہ نہیں کہ ہم کوئی نفسیاتی حربہ استمال کر رہے ہیں کہ ایسا کچھ کہنے سے کوئی فکر مند ہو کر 
  پیچھے پڑ جاے اور لازمی پوچھے 

نہیں ہم اس وقت کوئی مہان , مضبوط انسان نظر آنے کی کوشش بھی نہیں کررہے ہوتے ناہی ہم یہ پسند کرتے ہیں کہ آپ کو بے حس نظرآئیں ... یا آپ بے حس ہیں اس لئے بات نہیں کرنا چاہتے 

کیا آپ کو معلوم ہے ؟ ہم ایسا کیوں کرتے ہیں ؟

اس لئے کہ ہمیں میں سے اکثر کے لیے اس کا حل صرف وقت ہے 
بس ایک آدھ دن گزر جانے دیا جاے اور کچھ بھی اس کےآس پاس نا پھٹکے تو ٹھیک ہو جاے گا 
کیوں؟ ....اس لئے کہ ہمارے لئے  یہ علاج واقعی کام کرتا ہے 

یہ موثر  کارگرہونے کی بات ہے  ..یہی اب تک موثر علاج ہے اس لئے ایسے ہی ہونے دیں 

واقعیات سے ثابت ہوا ہے کہ مشہور نسوانیت کی علمبردار کرسٹینا سمرز نے ایک بار بتایا کہ ایک ٹاک شو کہ دوران ایک ہی حل طلب مسئلہ پر دیر تک لمبی بات کہ دوران اسکول کی لڑکیاں ڈپریشن اور تناؤ کا شکار ہو رہی تھیں جبکہ لڑکے اطمینان سے بات کرتے چلے جا رہے تھے 

جی ہاں ، یہ کبھی کبھی برا لگتا ہے جب  معاشرے میں مردوں کو کسی معملا میں سختی یا مضبوطی کا مظاہرہ کرنے والے کی طرح ہے لیا جاتا ہے عورتوں کو نہیں مگر یہ اتنا بھی برا نہیں کیونکہ ایسے خواتین بھی ہیں جو بات سنتی ہیں غور کرتی ہیں اور بہت اچھا مشورہ بھی دیتی ہیں مگر ایک دو ہی ایسی ہوتی ہیں 

اور یہ بات سمجھنا شائد اکثر خواتین کہ لیے مشکل ہوتا ہے کہ زخم  کو کریدنے بال کی کھال اتارنے سے علاج اکثر ممکن نہیں ہوتا بلکہ مرض اور بڑھنے کا خطرہ ہو جاتا ہے - یہ خاص طور پر ان بڑے مسائل میں اور بھی نا ممکن ہو جاتا ہے جہاں جلد از جلد کوئی موثر اور مضبوط علاج ضروری ہوتا ہے 

ہمارے جیون ساتھیوں کے لئے سب سے پریشان کن  صورت حال  تب ہو جاتی جب ہم واقعی اس مسئلہ پر بات کرنا چاہتے ہیں .....جی ہاں اور وہ بہت سمجھداری سے الجھن کے ساتھ  سوچتی ہیں ' لو اب یہ اس پر بات کرنا چاہتا ہے ؟ 

جی ہاں ...کبھی کبھی ہم بات کرنا بھی چاہتے ہیں ...ہا ہا ہا 

ذکر کرنے کی بات نہیں مگر یہ بہت ہی  برا محسوس ہوتا ہے جب وہ یہ سمجھنے لگتی ہیں کہ ہم بے حس اور سرد مزاج ہیں  بس اسی لیے ہم بات کرتے ہیں کہ انھیں اچھا لگتا ہے کہ ہماری مدد کریں 

ویسے ذاتی طور پر میرے خیال میں کسی بھی خاتون کی سب سے  ناقابل مزاحمت اور پر کشش خصوصیت اس کی یہ قابلیت ہے کہ وہ با آسانی آپ کے چہرے ، آنکھوں اور اٹھنے بیٹھنے کے انداز سے ہی بھامپ لے کہ کیا معامله درپیش ہے اور اچھی طرح سمجھتی ہو کہ آپ کب بات کرنا چاہتے ہیں اور کب نہیں 

مگر میں ایک بار پھر کہوں گا کہ ہم مرد جب یہ کہ دیتے ہیں کہ ' میں اس معامله میں بات نہیں کرنا چاہتا ' تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہوتا کہ ' تھوڑی اور کوشش کرو تو بتاؤں گا 

اس کا مطلب ہوتا ہے .. بس فلحال اس کو بھول جاؤ








Monday, 26 March 2018

سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے

وہ اس بار بھی  سفر کرتے ہوے کھڑکی سے باہر خوبصورت منظر سے لطف اندوز ہوتے ہوے  سوچ رہا تھا کہ  لوگ سفر سے کیوں گھبراتے ہیں اکثر لوگ سفر کو انگریزی  والا سفر کہ دیتے ہیں اتنا حسین منظر ہوتا ہے باہر دیکھنا آرام سے بس کے اندر - خود بھی ڈرائیو کریں تو کچھ دیر اتنے دلفریب منظر دیکھ کے کچھ دیر رک جانے کو دل چاہتا ہے کئی بار رکا بھی کچھ دیر ہی بس لطف اندوز ہو کر آگے چل دیا کیونکہ سفر زیادہ اھم ہے جس مقصد کے لئے سفر اختیار کیا وہ ضروری ہے چاہے کتنا بھی حسین منظر ہو یا کتنی حسین جگہ یا لوگ راستے میں مل جائیں چاہے کچھ بھی مزیدار کھانے کو ملے یا کتنی ہے اچھی چیزوں سے واسطہ پڑے سفر نہیں چھوڑا جا سکتا


ایسا ہی کرتے ہیں سب ہی شائد ہی کوئی ایسا ہوگا جو ٹھہر گیا اور سفر میں تاخیرکی ہو؟   مستقل طور پر  رک گیا ہو وہیں کا ہو گیا ہو؟ آگے سفر ترک کر دیا ہو؟  سب بہت اچھی طرح جانتے ہیں راستے کہ یہ نظارے یہ جگہیں چیزیں اور لوگ سفر سے زیادہ اھم نہیں جس مقصد کہ لئے سفر کر رہے ہیں اس کا پورا ہونا سب سےزیادہ
 اھم ہے

یہ سب تو بس دل بہلاوے کا سامان ہے سفر کو خوبصورت بناتا ہے یا کچھ آسان اور سہل کر دینا - اگر راستے میں اچھا کھانا  ملے کچھ اچھا سن لینے کو مل جاے کچھ اچھے لوگ جن سے اچھی بات ہو جاے کوئی مدد کر دے اس سے زیادہ کچھ نہیں -رکا نہیں جا سکتا سفر میں کسی قسم کا خلل یا تاخیر نہیں کی جا سکتی ان کی وجہ سے کچھ بھی ایسا نہیں کیا جانا چاہیے جس سے یہ سفر یہ مقصد متاثر ہو مشکل یاسست روی آ جاۓ

وہ سوچ رہا تھا یہ کونسی نئی بات ہے سب کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں  ایسا کوئی شائد ہی ہو جو  ایسے بے وقوفی کرے سفر چھوڑ دے یا  اس مقصد کومتاثر ہونے دے جس سے وہ جا رہا ہے
مگر  یہ کیا وجہ ے کے جس مقصد سے دنیا کا سفر اختیار کیا.... یہاں آے - اس کا کیا ہوگا؟ وہ سفر کیوں رک جاتا ہے راستے کے دلفریب نظاروں میں کھو کر یا لوگوں کی باتوں میں لگ کر یا راستے کی چیزوں میں گم ہو کر یہ عظیم مقصد جس کے لئے دنیا کا سفر اختیار  کیا ہے وہ کیوں رک جاتا ہے؟ - پھر عقلمندی کیا ہے؟ -پیسے جمع کرنا ؟ سامان  اکٹھا کرتے  رہنا ؟ راستے میں بیٹھ کرعالی شان گھر بنا کر سفر کو روک دینا یا بلکل ترک دینا ؟ بھول جانا کہ یہ سب کچھ تو اس عظیم سفر کو سہل اور خوبصورت بنا لینے کے سامان ہیں یہ  لوگ جن سے اتنا دل لگا لیا کے سفر بھول گئے, مقصد بھول  گئے ,  انکو تو اس سفر میں معاون ہونے کے لئے بنایا گیا تھا نہ کہ روک دینے کے لئے
یہ تو ایسے ہی ہے جیسے کوئی ادارہ اپنے ملازم کو کسی کام سے دوسرے شہر یا ملک روانہ کرے اور وہ ملازم وہیں کا ہو رہے یا وہاں کی رنگینیوں  میں گم ہو کر کام کو بھول چکا ہو - کیا یہ مجرمانہ غفلت نہیں ؟ 
عام طور پر کسی بھی قسم  کہ سفر کے لیے جتنے اہتمام ہوتے ہیں جنتی تیاری ہوتی ہے اوراپنے  مقاصد کے پورا ہونے کے لیے جتنا زورلگایا  جاتا ہے فکر کئی جاتی ہے اس میں سے کتا حصّہ اصل سفر کے انتظام میں لگتا ہے ؟

پھر سمجھدار با شعور زیرک کون ہے؟

بس یہی سوچتے ہوے وہ آخر منزل کی طرف رواں دواں رہاکہ 

Saturday, 17 March 2018

یہ بناسپتی بزرگ

جب ہم بیمار پڑتے ہیں تو دوائی  کھانے اور ڈاکٹر کا خیال آتا ہے علاج کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کبھی کبھی تو ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے تکلیف سے نجات  کی خاطر بڑے ہسپتال اور ڈاکٹر کی ضرورت ہوتی ہے خوب چکّر کاٹے جاتے ہیں 

کچھ لوگ تو ڈاکٹر کے پاس جانا فیشن کے طور پر یا ٹائم پاس کی خاطر بھی کرتے ہیں خاص طور پر خواتین جن کو بات کرنے کو کوئی نہیں ملتا یا بات سن نے والا دل جوئی کرنے والا یا ہمدردی کیئر کرنے والا چاہیے ہو تب   بھی ڈاکٹر کے پاس جانے کے لئے بیمار پڑ جاتی ہیں 

لیکن کبھی کسی نے ذہنی دباؤ تکلیف یا مستقل  الجھن یہاں تک کے شدید ذہنی تکلیف میں کسی دماغ کے ڈاکٹر کے پاس جانے کا سوچا ؟ بہت کم لوگ ایسا خیال کرتے ہیں کیونکہ یہاں تو سب ہی دماغی طور پر سب سے بہتر ہیں دوسرے بیمار ہیں وہ نہیں اگر نفسیاتی علاج کروانے جایئں گے تو لوگ کیا سوچیں گے پاگل ہے ؟

جبکہ آج کہ دور میں ہر شخص ذہنی مریض بنتا جا رہا ہے کوئی کسی پریشانی کا شکار ہے کسی پر ذہنی دباؤ بہت زیادہ ہے کسی کو ڈپریشن ہے تو کوئی شدید غصہ آ جانے کے مرض میں مبتلا ہے 

کہتے ہیں پاگل وہ ہوتا ہے جو ایک ہی کام کو بار بار اسی طریقے سے کرتا ہے اور ہر بار مختلف نتائج کی امید کرتا ہے اور عقلمند وہ نہیں ہوتا جس کہ پاس ہر جواب ہو عقلمند وہ ہے جو جواب حاصل کرنے کی کوہشش پورے صبر کے ساتھ جاری
رکھتا ہے

پرانے وقتوں میں کہا جاتا ہے لوگ اپنے سوال پریشانیاں اور الجھنیں لے کر یا بس دلجوئی کی تلاش میں  کسی بڑے بوڑھے بزرگ کے پاس جاتے تھے اور ان سے حل مل جاتا تھا تو اس پر عمل کر تے مگر  اب تو بزرگان بھی شائد بناسپتی  آ گئے ہیں جن سے نو جوان اور بچے صرف بچ کہ نکل جاتے ہیں تربیت کہ نام پر  اپنا الو سیدھا کرنے والے جو خود ان باتوں پر بلکل عمل نہیں کرتے جن کا پرچار اور ہدایت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں یہ تو کل کہ بچے ہیں ان کو کیا پتا چلے گا 
جبکہ پتا چلنے کہ لئے ایک چھوٹی سی بھول چوک کافی ہوتی ہے اور ضرورت سے زائدہ خود اعتمادی کا مظاہرہ بہت ہوتا ہے اور ان ہی کی وجہ سے وہ جو واقعی بھلا چاہتے ہیں کچھ خدمت کرنے کے لئے بےچین ور بیقرار ہوتے ہیں واقعی درد اور فکر سے ایک لمبا وقت اپنے بلند نمونے کہ بزرگان اور آقاؤں کہ زیر اثر گزارا ہوتا ہے  اور بچوں کی  دلجوئی ہمدردی اور ہمت افزائی ان کا کام ہوتا ہے 

یہ بناسپتی  بزرگ ان کا بھی بھروسہ اور  یقین کرنا مشکل کر دیتے ہیں  اور یہ نو جوان اور بچے ان سے بھی بھاگ جاتے ہیں یا بچ کہ نکلتے ہیں کہ یہ بھی ویسے ہی بزرگ ہیں جن سے یہ معاشرہ بھرا پڑا ہے 

میں سوچتا ہوں یہ پریشان حال کہاں جائیں گے ؟ جو دماغی امراض کا شکار ہوتے جا رہے ہیں - ڈاکٹر کہ پاس جاتےہوۓ گھبراتے ہیں کے لوگ پاگل سمجھیں گے پھر فیس بھی دینی ہوگی اور بڑے بوڑھے آج کل بناسپتی آ رہے ہیں ٢ نمبر 

Sunday, 11 March 2018

Unlearn

اکیسویں صدی کے جاہل وہ نہیں ہونگے جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے - بلکہ وہ ہونگے جو نیا سیکھنے کی خاطر پہلے 
والا 'ان سیکھا ' نہیں کر سکتے اور پھر سے نہیں سیکھ سکتے - الیون ٹوفلر 
Omnibus

Friday, 9 March 2018

یہ بھروسہ کرنے والے


عجیب لوگ ہوتے ہیں یہ آسانی سے بھرسہ کر لینے والے بھی - جب کسی نے اچھی طرح دیکھ لیا خوش ہو گئے او اسے بہت اچھا انسان ماننے لگے -کسی نہ بات غور سے سن لی تو سناتے چلے گئے اور سوچا یہاں اور بھی  بات 
 ہو سکتی ہے 

یا پھر کسی کی بات سن کر اسے پسند کرنے لگے کسی کی اچھی عادت دیکھ کر گرویدہ ہو گئے اور بہت اچھا انسان مان لیا کبھی کسی کہانی کو دیکھ کر کسی واقعہ کو ہوتا دیکھ کر کسی کو مظلوم مان لیا اور جی جان سے ساتھ دینے پہنچ گئے 

کبھی ایسا بھی ہوا کے یہ سب بعد میں غلط ثابت ہوا وہ سن لینے والا تو بس اس وقت موڈ میں تھا تو سن لیا اور وہ اچھی طرح مل لینے والا اس لئے اچھی طرح مل رہا تھا کیونکہ اس وقت لوگ دیکھ رہے تھے اور مسکرا کے ملنے والا بس عادت سے مجبور تھا اپنی پیشہ ورانہ مجبوری سے یا پھر کوئی اور وقتی وجہ  تھی 

مگر دھیرے دھیرے بھروسہ کرنے والے عجیب انسانوں کو ارد گرد کہ لوگوں نے اتنا کچھ سنایا انتہ مذاق اڑایا اور کبھی کسی اپنے نے اتنا زیادہ اکسایا اور برا بھلا کہا ,ایسی بے وقوفی کرنے پر کہ اس نے بھروسہ کرنا چھوڑ ہی دیا آخر 

اور یہی تو سہی راستہ ہے یہ دنیا بھروسے کے لائق کہاں رہی ہے ہر جگہ دھوکا ہر شخص چالباز مطلب کا یار مگر میں سوچتا ہوں کہ یہی چوٹی چوٹی باتوں پر بھروسہ کرنے والے یقین کر لینے والے اگر سامنے نظر انے والی چیز یا شخص جس کو دیکھ سکتے ہیں چھو سکتے ہیں اس پر بھی یقین کرنا چھوڑ دیں گے تو پھر آخر اس ان دیکھے ان سنے خدا پر کیسے یقین کریں گے ؟

یہ چھوٹی چھوٹی باتوں کا بھروسہ اور یقین ہی  آخر انسان کو بڑے اور مضبوط یقین تک لے جاتا ہے وہ بڑی بڑی باتوں اور مقاصد پر یقین کرنے کے قابل ہوتا ہے اور یہی یقین ایمان کا نچلا درجہ ہوتا ہے جو دھیرے دھیرے بڑا ہو کے ایک ایماندار قابل بھروسہ انسان بناتا ہے جس پر ارد گرد کہ لوگ بھی یقین کرتے ہیں  اور اس کے پیچھے بے فکر ہو کے چل نکلتے ہیں 

ہمیں ایسے ہے پر عزم بلند حوصلہ قابل اعتبار رہ نما درکار ہیں نہ ؟ تو خدارا بھروسہ کرنے والے معصوم لوگوں کی معصومیت قائم رہنے دیجیے ان کا یقین اگر ٹوٹ بھی جاے تو اسے جوڑ دیجیے یا کم از کم جوڑ دینے میں مدد ضرور کریں - حوصلہ دیں ہمت افزائی کریں معاف کردیں بے چارے کو بھروسہ کرنے کی عادت ہے جھلا ہے  آپ تو عقلمند ہیں نہ ؟

Tuesday, 6 March 2018

منہ تک کا علم

آپ منہ میں روٹی کا ایک لقمہ رکھ کر تین دن گھومتے رہیں وہ آپ کی نشو و نما کا باعث نہیں بن سکے گا جب تک کہ وہ آپ کے معدے میں نہ اتر جائے ۔ اور معدے میں اتر کر آپ کے خون کا حصہ نہ بن جائے ۔ اور پھر آپ کو تقویت عطا ہوتی ہے ۔ میں آپ اور ہم سب منہ کے اندر رکھے علم کو ایک دوسرے پر اگلتے رہتے ہیں ۔ اور پھینکتے رہتے ہیں ۔ پھر اس بات کی توقع رکھتے ہیں اور سوچتے  ہیں کہ ہم کو اس سے خیر کیوں حاصل نہیں ہوتی ۔ 

اشفاق احمد زاویہ ٢ عالم اصغر س سے عالم اکبر تک صفہ 147 
لوگ کہتے ہیں موسیقی روح کی غذا ہے ..میں نہیں مانتا - روح کی غذا دانائی ہے شعور ہے اور یہ دانائی اور شعور اس وقت تک حاصل نہیں ہوتا جب تک ہم اس دماغ میں بھرے ہوے علم کو لوگوں پر پھینکتے رہنے کی بجاے عمل کی بھٹی میں سے گزار کر اپنی زندگی کا معمول نہیں بنا لیتے اور خود اس علم کا عملی شاہکار نظر نہیں آتے 

صرف ہماری باتوں سے کچھ اثر نہیں ہوتا نہ کسی میں تبدیلی آتی ہے ہمارے روز مرّہ کے عمل اور ہماری شخصیت کو دیکھ کر ارد گرد کے لوگ اثر لیتے ہیں کہتے ہیں بچے آپ کی نصیحت سے نہیں آپ کے کردار کے اظہار سے سیکھتے ہیں میں کہتا ہوں لوگ بھی آپ کی شخصیت کے اظہار اور اثر سے خود میں تبدیلی محسوس کرتے ہیں کیونکہ انسان مٹی کا پتلا اس لئے کہا گیا ہے کہ اس میں گیلی مٹی والی خاصیتیں ہیں 

انسان غور کرتا ہے اور پھر جذب کرتا ہے اور ارد گرد کے ماحول اور لوگوں کے اس اثر سے خود کو اس کے مطابق ڈھالتا ہے کیونکہ یہ اس کے خالق نے اس کی جبلّت میں رکھا ہے کہ وہ محسوس کرے جذب کرے اور خود کو ہر لمحہ پہلے سے بہتر بنانے میں لگا رہے صرف عمر میں بڑا  نہیں عقل و دانائی میں بھی بڑا ہوتا رہے 
عقل و دانائی حاصل کرنے کہ لئے تو صرف ایک راستہ ہے وہ راستہ آپ کو اپنے خالق کا پیارا اور عزیز بناتا ہے 

خالق کا شعور اور سمجھ حاصل ہوتی ہے اور انسان کو اصل دانائی حاصل ہوتی ہے جب اس سہی سمت میں بڑھتا ہے اور اپنے سے آگے موجود اسی راستے کہ برگزیدہ مسافروں سے وابستہ ہونے لگتا ہے ان سے مزید دانائی حاصل کرتا ہے اور اس کہ اس سہی سمت میں ہونے کا ثبوت یہ ہے کے وہ  اطمینان حاصل کرتا ہے دل کو قرار نصیب ہوتا ہے اور اسی اطمینان سے سرشار وہ دانائی کے راستے پر منزل با منزل آگے بڑھتا ہے 
یہ ایک بتجریج  سفر ہے انسان پہلے سب سے قریب والے برگزیدہ مسافر کی بات کو آسانی سے ہضم کرتا ہے جو اس سے سفر میں تھوڑا آگے نکل چکا ہوتا ہے پھر اس کے بعد اگلے برگزیدہ مسافر کی دانائی سے فیض حاصل کرتا ہے اور آگے بڑھتا ہے 

کبھی کوئی براہ راست اس انتہائی دانائی کی منزل کو نہیں پہنچ سکتا جب تک یہ بتجریج سفر نہ کرے بھلا کبھی کوئی اسکول
جاے بغیر سیدھا کالج یا یونیورسٹی جا سکتا ہے ؟

اگر ایسا ہو سکتا تو ہر شخص اپنے خالق کی ہر بات پر عمل پیرا ہو جاتا صرف خالق کی بھیجی ہوئی کتاب پڑھتا اور کافی ہوتا اس کہ لئے پیغمبر کا درجہ حاصل کر لینا مگر ایسا نہیں ہے - یہ حکمت و دانائی کی راہیں دھیرج سکون اور بہت سا وقت لیتی ہیں باری  باری خالق کہ برگزیدہ اور دانا، رہ نما راضی ہوتے ہیں اور اپنی دانائی کا خزانہ انڈیلتے ہیں اور انسان دھیرے دھیرے سیراب ہوتا چلا جاتا ہے 

یہ دانائی کے راستے عقل و شعور کی منزلیں رات بھر رٹتے سے حاصل نہیں ہوتیں نہ ہی امتحان میں کسی گیسس پیپر یا بوٹی سے کام چلتا ہے اسی لیے اکثر لوگ اس راستے کو پسند نہیں کرتے مشکل لمبا اور کٹھن راستہ ہے کوئی شارٹ کٹ نہیں کوئی تیز رفتاری کا انتظام نہیں مگر صرف سہی اور سیدھا راستہ ہی درست راستہ ہوتا ہے 
صراط مستقیم 

Wednesday, 7 February 2018

خوشی حاصل کرنے کہ چند آسان طریقے

لوگوں سے میل جول انسان ہونے کا ثبوت ہوتا ہے ہم اکثر صرف چند گنتی کہ لوگوں سے ملتے ہیں اس کے با وجود کہ تعرف اور جان پہچان کافی لوگوں سے ہوتی ہے 

کبھی ارد گرد نظر دوڑائیں تو آپ کو بہت سے ایسے لوگ نظر یں گے جن سے روز سامنا  تو ہوتا ہے مگر بات چیت نہیں ہوتی شائد اس لیے کہ اجنبیوں سے دور رہنا ہی سکھایا گیا ہے 

میں یہ نہیں کہتا کہ اجنبی لوگوں سے خوب گھل مل کر دوستی کرتے رہنا خوشی حاصل کرنے کے لئے بہت ضروری ہے اجنبی کبھی کبھار بہت عجیب و غریب بھی نکل آتے ہیں لیکن  کبھی کبھار آتے جاتے راستے میں صرف ہیلو کہ کے مسکرا دینا یا بہتر ہے کہ مسکرا کہ سلام کر دینا خاص طور پر ان کو جن سے روز یا اکثر سامنا ہو جاتا ہے 

کبھی اپنے آفس کی لفٹ میں داخل ہوتے ہے مسکرا کے ایسا کر کے دیکھیں اور کبھی اگر بس میں موجود ڈرائیور یا کنڈکٹر کا حال پوچھ لیں جس سے اکثر ہی ملاقات ہوتی ہے 

یا اس دکاندار جس سے اکثر کچھ نہ کچھ خریدتے ہیں اس کے گھر کی خریت دریافت کریں 

کبھی کبھی روز آپ کے کمرے کی صفائی کرنے والے کا لئے کچھ مٹھائی رکھ کہ شکریہ کا نوٹ چھوڑ جائیں 

سنا ہے مصر میں لوگ دیوار پہ اشتہار بازی یا ' یہاں پیشاب کرنا منع ہے ' کی بجاے بہت خوبصورت آرٹ تخلیق کر دیتے ہیں فری میں  یا کوئی اچھی بات لکھ دیتے ہیں 

اور تو اور کوئی تو بہت شنادار سا آرٹ اپنی کڑھائی شدہ چیزوں کا دیوار یا درخت سے لگا جاتا ہے 

اسی طرح ایک عرب ملک میں لوگ گھر کے باہر فرج  لگا کر اس میں کھانے پینے کا سامان رکھا  چھوڑ دیتے ہیں کہ شائد کوئی آتے جاتے گرمی میں مجبور یہاں سے کھا لے گا 

ہمیں خوشخبری دینے کا حکم ہے ہم اگر صرف ارد گرد ایک اچھی مسکراہٹ سے سلام کر کے کسی کہ گھر کے باہر کی کیاری یا دکان کی آرائش یا پھر کسی کی سواری کی اور لباس کی تھوڑی تعریف کر دیا کریں تو جو خوشی حاصل ہوگی وہ پیسے خرچ کر دینے سے کہیں زیادہ ہے