Saturday, 22 July 2017

ایسا کیوں ہے؟

ایسا کیوں ہے کہ ، ہمیشہ سب کچھ  ویسے ہی کیا جانا چاہیے جیسے کیا جاتا ہے یا جیسے آج تک کیا جاتا رہا ہے ؟
یہ کیوں ضروری ہے کہ روز صبح اٹھ کر تیار ہو کر گھر سے نکل کر کام پر جاؤ؟ کیا کام پر جانے سے ہی پیسے کمانے کا مقصد پورا ہوتا ہے ہے؟
یا پھر روز صبح اسکول کالج جانے سے ہی انسان.. انسان بنتے ہیں ؟ کیا جو لوگ کبھی اسکول نہیں جاتے وہ انسان نہیں ہوتے؟ یا انسان نہیں بن پاتے

کیا لائن میں لگ کے ٹکٹ لینا بل جمع کروانا ضروری ہے ؟ کیونکہ ، سب ایسے کہتے ہیں ؟ یا یہی سہی طریقہ ہے؟ کبھی کسی لیڈر کو لائن میں لگے دیکھا ہے؟ ان کے بل کیسے جمع ہوتے ہیں ؟ ٹکٹ کیسے ملتے ہیں ان کو؟
ٹریفک کے اصول کی پابندی لازمی کیوں ہے ؟ سرخ بتی پے رک جانا سبز پر چل پڑنا ہمیشہ زیبرا کراسنگ سے سڑک پار کرنا کیوں ضروری ہے؟
کبھی کسی لیڈر کو دیکھا سرخ بتی پے؟ یا زیبرا کراسنگ پے؟

جتنے بھی ہیرو یا لیڈرز ہیں وہ عام زندگی کیوں نہیں گزارتے؟
ہم جانتے ہیں وہ ایسا نہیں کرتے نہ کر سکتے ہیں وہ مختلف ہیں تبھی ہیرو ہیں یا لیڈر ہیں اور دنیا انکو تسلیم کرتی ہے مگر سبق کچھ اور بن جانے کا دیتی ہے

اچھا شہری ، اچھا محنتی انسان جو وقت پے جاگے  اسکول جاتا ہو پورے ٨ گھنٹے کام پے رہے اسکول کے سارے پیریڈ پڑھے کام کرے تو جتنا کام ملے جو حکم ملے بجا لاے

حکم دینے والا کام دینے والا نہ بنے نہ ایسا بننے کا سوچے اگر ایسا کرے تو بغاوت سر کشی مگر یہی لوگ فلم دیکھتے ہے کوئی کہانی سنتے ہے ہیرو کی بغاوت پے تالیاں اور سیٹیاں بجا رہے ہوتے ہیں

لیکن بس فلم کی حد تک کہانی کی حد تک یا کسی بہت اچھی تقریر کی حد تک کبھی یہ نہیں سوچتے کہ میں خود اس جگہ کیوں نہیں میں وہ تقریر کیوں نہیں کر سکتا؟ میں وہ ہیرو کیوں نہیں ہو سکتا ؟
صرف اس لئے کہ میں تو عوام میں سے ہوں میرا کام تو لائن میں لگنا ہے انتظار کرنا کام کرنا ہے
ہینا؟

ہم دیسی

ہم دیسی لوگ مرچیں پسند کرنے والے لوگ ہیں
مرچیں کھانا کھلانا ار لگانا ہمارا پسندیدہ مشغلہ ہوتا ہے
چاہے جگت میں ہو شغل میں یا ہانڈی میں 

درد سے پیار تکلیف میں مزہ لینے والے عجیب سے لوگ
ہمیں درد بھرے گانے اچھے لگتے ہیں سوز و گداس سے پیار ہے
سریلا پن اچھا لگتا ہے جو سوز کے بنا آ ہی نہیں سکتا
کبھی بارش میں اپنی چھتری دوسرے کو دے دیتے ہیں اور
 کبھی بلکل نۓ پیکٹ میں پرانی چیز بیچ دیتے ہیں

ہم ابھی گاڑی چلانا سیکھ رہے ہیں تھوڑے اناڑی ہیں اور تھوڑے کھلاڑی
رک رک کہ کبھی تیزی سے چلتی ہے ہماری زندگی کی گاڑی

بہت مزے سے زندگی کی اس رک رک کے چلتی گاڑی کو کبھی دھکّےتو کبھی جگاڑ سے چلاتے ہیں کیونکہ چلتی کا نام ہی تو گاڑی ہے

ہمیں سمجھنا آسان نہیں اور جتنا سمجھ آتی جاتی ہے اتنی حیرانگی ہوتی جاتی ہے عجیب ہیں ہم لوگ ہمیں دل سے سمجھنا پڑتا ہے دماغ بیچارہ تو بس ہمیں جاہل گنوار اور وحشی کہتا ہے

عجیب الٹی سیدھی سی یہ زندگی ہماری تھوڑی سچائی تھوڑی نادانی اور تھوڑی بےایمانی سے بنی ہے
آنسو اور کچھ سپنے دونوں ہی مل جاتے ہیں ایک ساتھ ہماری آنکھوں میں کیونکہ دونوں ہی اپنے ہیں
اور ان کے ساتھ تھوڑی مجبوریاں  ہیں اور من مانیاں بھی ہم ان کہ بنا بھی نہیں رہ سکتے مجبور چاہے جتنے بھی ہوں من مانیاں سے نہیں رہ سکتے

ہم دیسی لوگ تو تو ..میں میں بھی بہت کرتے ہیں اور بہت سی باتیں ہم میں دیوانوں جیسی ہیں
ہمیں ویلیتی لوگ اسی لیے کبھی سممجھ نہیں سکے بیچارے ہم پر اپنی منطق آزماتے ہیں دماغ لڑاتے ہیں اور ہم تو دماغ اور
منطق سے باہر کہ لوگ ہیں



مگر کب تک؟ ہم دیسی بھی بہت ، شوق سے ویلیتی بنتے ہیں، پتہ نہیں کیوں دل کی چھوڑ کہ دماغ کی سننے لگتے ہیں ، اپنے سارے طور طریقے بدلتے ہیں کہیں سے دیسی نہ نظر آئیں مگر بن نہیں پاتے کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی کونے سے دیسی پنا کبھی نہ کبھی ضرور جھلک جاتا ہے جیسے وہ خواجہ سرا ہوتے ہیں نہ بس ویسے ہی

Thursday, 20 July 2017

Dead and the Alive

تجسس ، خاص طور پر دانشورانہ فکر اور استفسار ان لوگوں کو ایک دوسرے سے الگ کرتا ہے جو زندہ ہیں اور جو صرف زندہ دکھائی دیتے ہیں اپنے جسم کی حرکت کی وجہ سے - ٹام روببینز
Curiosity, especially intellectual inquisitiveness, is what separates the truly alive from those who are merely going through the motions.-Tom Robbins 

Omnibus

Saturday, 8 July 2017

Trust the physician

درد اور تکلیف  ذات کا خول توڑکر سمجھادری میں اضافہ کرتی ہے یہ ایک کڑوی زہر دوا ہے جس سے آپ کہ اندر کا معالج آپ کہ روحانی طور پر  بیمار وجود کا علاج کرتا ہے - اپنے معالج پر بھروسہ کرو اور چپ چاپ سکون سے علاج کرواتے جاؤ - خلیل جبران
Your pain is the breaking of the shell that encloses your understanding. It is the bitter potion by which the physician within you heals your sick self, so therefore, trust the physician and drink his remedy in silence and tranquillity. - Khalil Gibran

Omnibus

Ego Traps

Omnibus

Friday, 30 June 2017

اندر کا جانور

ہم جتنی بھی ترقی کر جائیں  اندر کے گہرائیوں میں ہم ابھی تک ایک جانور ہیں جانور جو انسان نظر آنے کی کوشش میں ہر وقت کوشاں رہتا ہے مگر صرف نظر آنے کے لیۓ ..........انسان بننے کے لئے نہیں 

ایسا کیوں ہے ؟ ہم صرف انسان نظر آنے کی کوشش میں کیوں  لگے رہتے ہیں؟ انسان بنتے کیوں نہیں ؟ یہ بات ہم اکثر بھول جاتے ہیں کہ اندر کی گہرائیوں میں ہم ایک جانور ہیں جو یاد رکھنی چاہیے اس کی اہمیت اس بات سے کہیں زیادہ ہے کہ ہم انسان نظر آنے کی کوشش کریں انسان بن جانا اس بات پر ہی منحصر ہے کہ ہم یاد رکھیں کہ اندر سے ہم ایک جانور ہیں جسے انسان بن جانے کا کام دیا گیا ہے صرف انسان نظر انے کا نہیں 

لیکن ہم اس بات کو کیسے یاد رکھ سکتے ہیں جب ہم اپنی بجاے دوسروں کے اندر کا جانور تلاش کرنے میں زیادہ وقت صرف کرتے ہیں وہ بھی بس اس لئے کہ ہمارے اندر کے جانور سے لوگوں کا دھیان بٹا رہے جو ایک ناکام کوشش ہے ہم کتنی بھی کوشش کر لیں ہمارے اندر کا جانور کہیں نہ کہیں سے اپنی جھلک ضرور دکھا دیتا ہے کیونکہ جب تک وہ ہے وہ چین سے نہیں بیٹھے گا- جانور تو ہر وقت اچھل کود اور خرابی پیدا کرنے میں لگا رہتا ہے اس لئے اسے کابو نہ کیا گیا
سدھارا نہ گیا تو کبھی نہ کبھی کہیں نہ کہیں یہ خود کو ظاہر کر دے گے

ہمیں دوسروں کے اندر کا جانور نمایاں کرنے میں مزہ آتا ہے مگر صرف وہاں جہاں ایسا کرنا فائدہ مند ہو نقصان دہ نہیں - ہم وہاں ایسی  کوشش کرنے کی جرّت کبھی نہیں کرتے جہاں ایسا کرنے سے نقصان کا ذرا بھی اندیشہ ہو - ایسی  جگہ ہم چپ چاپ با ادب اور فرمانبردار نظر انے کی کوشش کرتے ہیں کیونکے اگر یہاں کچھ کیا تو نہ صرف نقصان کا اندیشہ ہے بلکہ اپنے اندر کا جانور بھی ظاہر ہونے کا خدشہ ہو سکتا ہے 

ہم صرف کسی کونے میں الگ تھلگ یا ایسے جگہ دوسروں کہ جانور نمایاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں جہاں اپنے جیسے اور لوگ ہونے کا یقین ہو اور خوب لطف اندوز ہوتے ہیں یہ سب کر کے لیکن چہرے پر ظاہر نہیں ہونے دیتے کہ اندر سے بہت لطف اندوز ہو رہے ہیں چہرے پر فکر دکھ یا محبّت ظاہر کرتے ہے  اس کہ لئے جس کے اندر کا جانور دوسروں پے ظاہر کر رہے ہوتے ہیں 

اگر ہمیں واقعی فکر ہو کسی کے اندر کے جانور کے ختم کر دینے کی تو پہلے اپنے جانور کی فکر تو کریں جس  کو ہم اکثر بھول ہی جاتے ہیں اور وہ کبھی کبھی دھیان نہ رکھنے کی وجہ سے یا تو مر جاتا ہے اور اس کی بو سے سارا ماحول خراب ہونے لگتا ہے یا بلکل بی نہ سدھاے جانے سے اتنا زیادہ بے کابو ہو جاتا ہے کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے  یا پھر وہاں تک اس فکر کو پونھچائیں جہاں کوئی مثبت نتیجہ ملنے کا امکان بھی ہو 

تو دوستو اپنے اندر کے جانور کو مت بھولو اس کی فکر کرو اس کو انسان بناؤ دوسروں کو رہنے دو  کیونکے دوسروں کو انسان بنانے کے قابل صرف اور صرف تب بن سکو گے جب خود بن جاؤ گے ایک انسان جو صرف انسان نظر انے کی کوشش نہیں کرتا انسان ہوتا ہے 

Sunday, 25 June 2017

Trying to be ?

تم دنیا پر ، دنیا دار بن کہ... کبھی اثر انداز نہیں ہو پاؤ گے
you will never influence the world by trying to be like it

Ominbus