Friday, 11 May 2018

تعلیمی نظام اور مسلمانوں کے مسائل


مسلمانوں کی پہچان اسلام سے ہے لہٰذا جب بھی اس عنوان سے گفتگو کی جائےگی تواِس حقیقت کو پیش نظر کرکے ہی کی جائےگی کہ اس ملت کے کسی بھی مسئلہ کا حل قرآن وسنت کی روشنی میں ہوگا ۔ ہمارے ملک عزیز میں مسلمانوں کے بہت سے مسائل ہیں مثلاً آئے دن فسادات کا مسئلہ ، سرکاری محکموں میں مسلمانوں کے بحالی کا مسئلہ ، زبان وثقافت کے ’’تحفظ کا مسئلہ ، دین میں آئےدن چھیڑ چھاڑ کا مسئلہ ، تعلیم یافتہ بلخصوص نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزام میں پھنسانے کا مسئلہ وغیرہ وغیرہ ۔ یہ تمام مسائل اس وجہ سے وجود میں آئیں ہیں کہ مسلمان دین حق کے پیرو ہیں ، دین مصطفیٰ کے علم بردار ہیں ۔ لہٰذا مسلمانوں کے کسی بھی مسئلہ کو اسلام کے تناظر میں سوچنے اور سمجھنے کی کوشش کرنی ہوگی اوراس کا حل بھی اسلامی ہی ہوگا


مسلمانوں کا مسئلہ تعلیم ایک نازک اور پیچیدہ مسئلہ ہے ۔ قوموں کے عروج و زوال میں تعلیم کا ہی رول تھا اور آج بھی ہے لیکن افسوس کہ مسلمانوں کی اکثریت اس اہم فریضہ سے بالکل غافل ہے ۔ انہیں نہ تو اپنے حال کی فکر ہے اورنہ اپنے نونہالوں کے مستقبل کی ۔ تعلیم ہی نوجوانوں کو ملت کی شاندار روایات کا امین اوراس کی تہذیب وثقافت کا پاسدار بناتی ہے اورمسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اس پرکبھی بھی سنجیدگی سے غور وخوض نہیں کرتے مسلمانوں کے ایک بڑے گروپ پر تو تعلیم برائے معاش کا نظریہ غالب ہے ۔ یہ گروپ بچوں کو اس لئے پڑھاتے ہیں کہ وہ بڑا ہوکر خوب روپیہ پیسہ کمائے اور پُر لطف زندگی بسر کرے ۔ آخرت کووہ خدا پر چھوڑدیتے ہیں

یہ صورت حال انتہائی تشویشناک اور پریشان کن ہے ۔  ان پر جومصیبت آنے والی ہے اور تعلیم کاجو نظریہ ان کی نئی نسلوں پر تدریجاً تھوپا جارہا ہے اس کی نہ توانہیں خبر ہے نہ فکر- اس مسئلہ کا حل صرف اورصرف بیداری اور مسئلے کی پوری سمجھ بوجھ اور شعور میں ہے جو اسلامی طرز تعلیم اور تربیت میں موجود ہے

اسلامی نظریہ یہ ہے کہ انسانوں کواس طرح کی تعلیم دی جائے کہ وہ علم حاصل کر کے  نیابت الٰہی کا فریضہ ٹھیک ٹھیک طورپر انجام دے سکیں ساتھ ہی اپنے معاشی  اورسماجی زندگی سے بھی اچھی طرح عہدہ برآ ہوسکیں ۔ اسلامی نظام تعلیم ان کے ذہنوں میں اس تصور کی پرورش کرتا ہے وہ اس دنیا میں غیر ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ ایک ذمہ دار زندگی کے حامل ہیں اور آخرت میں اپنے کئے کا حساب دینا ہے ۔ اسلامی نظام تعلیم اُن کے اخلاق وکرد ا ر کی بہترین تربیت کرتا ہے اوران کو ایک خاص مقصد اورنصب العین کے لئے تیار کرتا ہے تاکہ وہ اسلام کی دعوت کو لے کر اُٹھیں اور اِ س دین کوبحیثیت نظام زندگی دنیا میں قائم کریں یا اس کو غالب کرنے کی کوششیں کریں

اسلامی تعلیم یہ چاہتی  ہے کہ لوگ دنیا کے معاملات سے الگ تھلگ نہ رہیں ، صوفی ودرویش نہ بن جائیں ۔ وہ مسجد اور خانقاہوں میں دنیا سے بے نیاز ہوکر گوشہ نشین نہ بنیں بلکہ وہ دنیا کے معاملات کوہاتھ میں لے کر حسن وخوبی کے ساتھ چلا سکیں۔ پوری انسانیت کے فلاح وبہبود کے لئے کام کریں۔ زندگی کے ہر شعبہ میں وہ انسانوں کی صحیح رہنمائی کرسکیں۔ زندگی کے اجتماعی ہنگاموں میں پورےاعتماد اور قوت کے ساتھ قدم رکھ سکیں ۔ مختصر یہ کہ اسلامی نظام تعلیم کا مقصد طلبہ وطالبات کوذہنی ،جسمانی ، علمی اور عملی حیثیت سے ایسی تربیت دیتا ہے کہ وہ اسلام اورانسانیت کے لئےخادم بن سکیں دنیا کی رہنمائی اپنے ہاتھوں میں لے سکیں ۔ دنیا کے مسائل اورمشکلات کا حل پیش کرکے اقوام عالم کے امام بن سکیں

آج کل کے مدارس  میں جونصاب چل رہا ہے وہ حالات اور ضروریات کے مطابق نہیں ہیں کیونکہ موجودہ نصاب ایک دفاعی قسم کا نصاب ہے جو طلبہ کو دفاعی سوچ دیتا ہے اور یہ سوچ  دین ودنیا کی تفریق کی وجہ سے ہوئی ہے ۔ اِن مدارس نے اسلام کے بر خلاف اُس تصور کوقبول کرلیا ہے کہ دین الگ ہے اوردنیا الگ ہے ۔ موجودہ تعلیم گاہیں صرف انفرادی مذہب کی تعلیم دیتی ہیں اجتماعی معاملات جیسے سیاسی اخلاقی اورتمدنی ، سماجی اورعمرانی مسائل سے طلبہ وطالبات کو بالکل بے تعلق رکھا جاتا ہے

ان مدارس میں طلبہ وطالبات کودور حاضر کے تقاضوں کے تعلق سے تعلیم بھی  نہیں مل رہی ہے حالانکہ اسلام اِن تمام علوم وفنون کی ترغیب دیتا ہے جو اسلام کے مقاصد کوپورا کرنے میں معاون اورمددگار ثابت ہوں ۔ جدید فلسفہ حیات، فلسفہ تاریخ ، فلسفہ سیاسیات، فلسفہ معاشیات ، فلسفہ سائنس وغیرہ کے علوم سے ان کو باخبر ہونا چاہیے ۔ ان کے کھوکھلے پن اوراُن کی خرابیوں وکمیوں کوان پر واضع ہونا چاہیے ۔ اسلامی تصورات کے ساتھ ان کا تقابلی مطالعہ ہونا چاہیے ، اسلامی نظام کی جدوجہد میں اس طرح کی تعلیم طلبہ وطالبات میں اسلامی عقائد ونظریات کی برتری کا پورا شعور پیدا کرے گی  ۔ طالب علموں  کو یہ باتیں اس طرح پڑھائی جائیں کہ وہ ان پر اسلام کی حقانیت واضع کردیں  ۔ انہیں اس بات کا یقین محکم ہو کہ اسلام ہی وہ طرز فکروعمل ہے جواِس کائنات کے خالق کی عطا کردہ ہے اسی میں پوری انسانیت کے دکھوں کا علاج ہے اسلام کے علاوہ دوسرے نظام توانسان کے بنائے ہوئے ہیں اور اِن میں کوئی بھی نظام انسانوں کو اس کے دکھ کا درماں نہیں بن سکا

یہ بات بڑے افسوس کی ہے کہ ان درسگاہوں میں ان علوم کا  مطالعہ تو بہت دورکی بات ہے اُنہیں ان  کی زبان اور اُن کی اصطلاحات سے بھی آگاہ نہیں کیا جاتا ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اِن درسگاہوں سے فارغ التحصیل طلبہ وطالبات کی ایک بہت بڑی تعداد بُری طرح احساس کمتری کا شکار رہتی ہے  اور عملی دنیا کے لئے محض شئے بے کار بن کر رہ جاتی  ہیں ۔ ان کی زندگی کسی نہ کسی درجہ میں با شعور اور مالی طور پر مستحقم افراد سے مرعوب ہو کر  گزرتی ہے ۔ معاشی میدان ان کے لیے تنگ ہوجاتا ہے

موجودہ تعلیمی نظام میں جہاں بعض خوبیاں ہیں وہیں اس کی خامیاں اتنی زیادہ ہیں کہ اس کی پوری افادیت پر پانی پھرجاتا ہے آج انسان کا علم اتنی ترقی کرچکا ہے کہ ترتیب کے ساتھ مطالعہ و تحقیق کے لیے اس کو کئی شعبوں میں تقسیم کردیا گیا ہے ، علم تاریخ ، علم عمرانیات ، علم جغرافیہ ، علم معاشیات ، علم تمدن، علم کیمیا، علم ریاضی ، علم طبیعات ،علم النباتات، علم الحیوانات، علم فلکیات وغیرہ وغیرہ ۔ یہ تمام شعبے معلوم و معرو ف ہیں۔ اِن کا مطالعہ اوراِن سے استفادہ کرنا ضروری ہے ۔ ہر طالب علم کواس کا مطالعہ کرنا چاہیے اورایک مسلم طالب علم کواس کا مطالعہ کرنا اورابھی زیادہ ضروری ہےکیونکہ اس نے  اِن علوم کی تحصیل کے بعد اِن علوم کو اسلام کا کلمہ پڑھانا ہے ۔

یہ علوم اسلام کی اساسی تعلیم کی افادیت کے پڑھانے میں مددگار بنتے ہیں اور ان کو تقویت پہنچاتے ہیں ۔ لہٰذا اِن کا حصول لازمی ہے مگر اس بات کوخصوصی طور پر پیش نظر رکھنا چاہیے کہ ان علوم کی تربیت وتدوین اس گروہ کی طرف سے کی گئی ہے جو خدا بیزار نہیں اوراسے خدا پرستی کے نقطۂ نظر سے مرتب کیا گیا ہے ۔

بہت غور کرنے کی بات ہے کہ گزشتہ پانچ چھ سو برسوں میں انسان کوجس قدر معلومات حاصل ہوئیں ہیں اوران کومرتب کرنے اور ان سے نتائج اخذ کرنے کا سارا کام خدا ناشناش یا مذہب بیزار لوگوں نے کیاہے جس کے نتیجہ میں آج کا علم انسان کے لئے مفید ہونے کے بجائے مجموعی حیثیت سے مضر ثابت ہورہا ہے ۔ رائج الوقت نظام تعلیم سے فارغ ہونے والے طلبہ وطالبات خدا کے باغی بن جاتے ہیں، مذہب دشمن بن جاتے ہیں۔ اخلاقی قدروں کوپامال کرنے لگتے ہیں ۔ اس گمراہی کے اسباب ان  کے مضامین میں نہیں بلکہ وہ بنیادی واساسی افکار ونظریات ہیں جن پر عصری تعلیم کا ڈھانچہ تیار کیا گیا ہے ۔ مذکورہ بالا نظام تعلیم کے پس پُشت جو تصورات (Ideologies) کام کررہے ہیں وہ انسانیت کے لیے سخت تباہ کن اورفساد فی الارض پیدا کرنے والے ہیں۔ جب سے دنیا نے ان کو اختیار کیا ہے وہ فتنہ وفساد کا گہوارہ بن گئی ہے

جدید تعلیم کی بنیاد الحاد اور دہریت (AETHISM)ہے جس کا مطلب ہے کہ پوری کائنات اتفاقیہ (ACCEDENTAL) وجود میں آگئی ہے ۔ اس کے بنانے والے کا کوئی وجود نہیں ہے اور اگر ہے بھی توہماری زندگی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اس لیے ہمیں زندگی کے معاملات میں خدا کو شامل کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ تصورات ، (BELIVIES) انتہائی تباہ کن ہیں جوجدید تعلیم کی افاد یت کوبرباد کرتے ہیں  ۔ یہ تصورات انسانوں کے ذہن کوبگاڑ کر رکھ دیتے  ہیں  ۔ انسان سوچنے لگتا ہے کہ ہمار ے اوپر کوئی بالا تر ہستی نہیں جو ہماری پوچھ گچھ کرے ۔ لہٰذا اس تصورات کا انسان پرلے  درجے کا خود غرض بن جاتا ہے من مانے طریقہ سے زندگی گزارنے کا عادی ہوجاتا ہے اور خواہشات نفس کے پیچھے دوڑنے لگتا ہے۔ خداسے رشتہ توڑنے کےبعد اس کا رشتہ شیطان سے جڑجاتا ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس کی زندگی میں ہرطرح کی شطنیت (DEVILISHNESS)آجاتی ہے۔ جدید تعلیم کی دوسری بنیاد مادہ پرستی (MATEREALISM)پر ہے جوآخرت پسندی کی عین ضد ہے اس سے آدمی مکمل دنیا پرست بن جاتا ہے ۔ جدید تعلیم کا یہ تصور کہ ہماری زندگی بس اسی دنیا تک محدود ہے مرنے کے بعد مٹی میں مل جاتا ہے سڑ گل کر فنا ہوجانا ہےاس زمرہ میں آتا ہے ۔ جون مسفلذ (JOHN MASFIELD)کی وہ نظم تو آپ نے پڑھی ہوگی جس کا عنوان ہے (Eat Drink and Be merry)  کھاؤ ، پیو اور مزہ کرو، اس تصور کا حاصل آدمی یہ سوچتا ہے کہ ہم زندگی کا بھرپور مزہ لوٹیں زیادہ سے زیادہ داد عیش کریں - جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی دنیا کی لذّت اوراسکی رنگینیوں پر بھوکے کتے کی طرح ٹوٹ پڑتا ہے-  عیّاشی کے اڈے قائم ہوتےہیں ۔ شراب وکباب کے دور چلتے ہیں ۔ بازاروں میں بہو بیٹیاں فروخت ہوتی ہیں۔ رشوت کا بازار گرم ہوتا ہے ۔ خود غرضی کی وَبا پھوٹتی ہے ۔ آدم کے بیٹوں میں خون کی ہولی کھیلی جاتی ہے ۔ ظلم ایک کھیل وتماشہ بن جاتا ہے ۔ آج کی دنیا اس کی جیتی جاگتی تصویر ہے ۔ 

دوسری جنگ عظیم کے دوران جب یہ خدشہ ہوا کہ  لندن پر جرمنی بمباری کرسکتا ہے توموت کے خطرے میں وہاں کےباشندوں(نوجوانوں ، مردوں اورعورتوں ) کو خدا یاد نہیں آیا بلکہ شراب وکباب یاد آیا اورزیادہ عیاشی میں غرق ہوگئے یہی وجہ ہے کہ آج ہر طرح کے اسکینڈل کی خبریں جو اخبار ورسائل کی زینت بنتے ہیں ان میں ان پڑھ لوگ کم ملوث ہوتے ہیں اور جد ید تعلیم کے حضرات زیادہ شامل ہوتے ہیں۔

جدید تعلیم کی تیسری بنیادمفاد پرستی (UTILITARIANSIM)پر ہے اس مفروضے کے مطابق اخلاق،روحانیت  اور زندگی کی مستقل قدروں (COMMON VALUES)کی موجودہ نظام تعلیم میں کوئی جگہ نہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ مغرب نے جس نظام تعلیم کوفروغ دیا ہے اس نے تو یونیورسٹیز کوبھی بحران میں مبتلا کردیا ہے ۔ پروفیسر ٹائیس لکھتے ہیں ’’موجودہ تعلیم نے اپنے آپ کو ماضی کے روحانی ورثے سے الگ کرلیا ہے اورا س کا مناسب متبادل تلاش کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پڑھے لکھے افراد بھی زندگی کی اقدار کے صحیح احساس سے عاری ہیں۔‘‘جدیدتعلیم سے آراستہ لو گ  ہر چیز کو افادی نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں ۔ ہر کام میں مادی فائدہ  تلاش کرتے ہیں۔ اخلاق ان کے لیے بالکل ایک بے معنیٰ چیز بن کر رہ جاتا ہے ۔ 

ایسی تعلیم کا نتیجہ ہے کہ آدمی عیّار اورمکّار بن گیا ہے ۔ لوگوں کو دھوکہ دینا ایک ہنربن گیا ہے ۔ فریب سے کام نکالنا آدمی کا خاصہ بن گیا ہے ۔ طلبہ وطالبات میں بد اخلا قیو ں کے واقعات روزانہ اخبار ورسائل میں نظروں سے گزرتے ہیں ۔ طلبہ چوری وڈکیتی سے لے کر قتل و غارت گری اور سر بازار زناتک جیسے جرائم کا ارتکاب کررہے ہیں۔ عیش پرستی ، بے راہ روی اور اباجیت کا شکار بن رہے ہیں ۔ اساتدہ والدین اوردیگر بزرگوں تک کا احترام نہیں کرتے۔ امتحان میں چھڑے دکھا کر جوابات نقل کرتے ہیں ۔غرض کوئی ناکردی ایسی نہیں کرتے ہوں جوطلبہ کونہ کرنی چاہیے  اوروہ مجسم تخریب بن چکے ہیں۔

جدید تعلیم کی چوتھی بنیاد وطن پرستی (NATION WORSHIP) ہے جس کا آج کل ملک میں بہت چرچا ہے ۔ طلبہ وطالبات کے ذہن میں یہ بیٹھا یا جاتا ہے کہ ہمیں اپنی قوم کا ساتھ دینا ہے خواہ وہ ناجائز پر ہی کیوں نہ ہوں۔ مکاولی کا یہ تصور اورمقولہ My Nation Right OR    Wrongپر عمل کریں اور کرایا جائے۔ اس تصور نے عالمی برادری کومختلف خانوں میں تقسیم کردیا ہے نتیجہ یہ ہے کہ قوموں اورملکوں سے بھائی چارگی ، امداد و اعانت کے بجائے دشمن اورتعصب پیدا ہوگیا ہے ماضی میں جو دو عظیم جنگیں ہوئیں ہیں وہ کسی مذہب کے نام پر نہیں ہوئیں ہیں بلکہ قوم پرستی کے سبب ظہور پذیر ہوئیں اور اس کا انجام سب کے سامنے ہے وہیں اگر ایک خدا ، ایک انسان اورایک خدا ئی کا ضابطہ کا تصور پیش کیا جاتا توانسانوں میں تعصب ختم ہوتا ۔

جدید تعلیم کی پانچویں بنیاد ڈاروینزم (DARWINISM)پر ہے ۔ یہ نظریہ انسانوں کودرندہ صفت بنادیتا ہے ۔ اس نظریہ کی تباہ کن تفصیلات سے قطع نظر فی الوقت Survival For The Fittest کے نظریہ کوہی اگردکھا جائے تو اس کا خلاصہ یہ ہے کہ زندہ رہنے کا حق صرف اس کوہے جو سب سے زیادہ طاقتور ہے ۔ اس فلسفہ نے آج اتنی ترقی کرلی ہے کہ لوگ عام طور پر ہی سمجھنے لگے ہیں کہ فطرت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ کمزور اور طاقتور زندہ ہیں اُن کا ماننا ہے کہ ہر بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کوکھا جاتی ہے ۔ اس فلسفہ کی ترویج اوراشاعت سے پہلے ایک قوم دوسری قوم پر ظلم کرکے اپنے ظالم ہونے کا احساس کرلیتی تھی مگر اب ڈارون کے اس نظریہ نے لوگوں کوسمجھا دیا کہ جس چیز کو تم ظلم کہتے ہو وہ ظلم نہیں ہے بلکہ عین تقاضائے فطرت ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسان نے غیر ملکوں پر حملہ کیا ۔ روس نے چیچنیا اور افغانستان پر حملہ کیا برطانیہ نے ناگالینڈ پر حملہ کیا - یہ سب ان ہی  باطل تصورات کا نتیجہ ہے جہاں انسانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی ۔

اس وضاحت سے آپ نے سمجھ لیا ہوگا کہ عصری تعلیم (Modern Education)کے خطرات کیا کیا ہیں ایمان کے لٹ جانے یااس میں تشلیک (Making Sceptical)پیدا ہوجانے کے بعد خطرہ کس حد تک بڑھ جاتاہے ۔ اخلاق برباد ہوجاتے ہیں سیرت وکردار بگڑ جاتے ہیں ۔ انسان حرص وہوس کا غلام بن جاتا ہے ۔ یہ سب  خطرات اِن مضامین میں ہیں جوان اداروں میں پڑھائے جاتے ہیں بلکہ یہ ان بنیادی افکارو نظریات میں ہیں جن کی بنیاد پر اِن مضامین کی تعلیم دی جاتی ہیں ، اگر یہ مضامین اسلامی افکار ونظریات جیسے توحید، رسالت ، آخرت، وحدت آدم، اخلاقی اور  مستقل اقدار وغیرہ ) کی روشنی میں بنائے جائیں اور پڑھائے جائیں تویہ سارے خطرات کم سے کم ہوجائیں گے اور اس سے نکلنے والے افراد صالح ، نیک اورباکردار ہوںگے جوسماج کے لیے ایک نعمت(Boon/Blessing)ہو ںگے-

مسلمانوں کے تعلیم کا مسئلہ ان ہی  وجوہات سے بڑا نازک بن جاتا ہے ۔ اگر اپنی دینی مدارس میں جاتے ہیں تودنیا تو  کیا خود اسلام کےلئے  بیکار بن جاتے ہیں اور اگر جدید اسکول وکالج کا رخ کرتے ہیں تودین وایماں سے دور ہوجاتے ہیں ۔ اخلاق بگاڑ کے شکار بن جاتے  ہیں اس بنیا دی مسئلہ کوحل کئے بغیر ہم ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتے اورنہ یہ ممکن ہے کہ ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر پیچھے رہیں۔ اس مسئلہ کا حل جتنا جلد ممکن ہو نکالنا ہوگا ۔ بد سے بد تر اورصبر آزما حالات میں بھی ہمیں اپنے خداپر اعتماد کرکے نبرد آزما ہونا ہوگا راستے نکالنے ہوں گے۔

 مسلمانوں کے ماضی کی تاریخ پر اگر نظر ڈالیں تو وہاں دینی اوردُنیوی تقسیم نہیں ملتی- ایسی کوئی تفریق نظر نہیں آتی ، ماضی میں مسلمان ہر علم کے شیدائی تھے ۔ ایک طرف قرآن ، حد یث، تفاسیر، فقہ، عقائد وغیرہ علوم حاصل کرتے تھے تودوسری طرف اس کے ساتھ ساتھ مذکورہ علوم کی رو شنی میں سائنس ، جغرافیہ ، طب ، ریاضی، کیمیا، طبیعات ، نجوم وغیرہ وغیرہ علوم بھی حاصل کیا کرتے تھے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ ساتویں صدی سے سترہویں صدی تک دنیاکے تمام علوم پر جوکام ہوا اوران میں بے انتہا ترقی بھی ہوئی ۔ ان صدیوں میں جوایجاد اورانکشاف ہوئے ان کے امام صرف اورصرف مسلم علماء ہی تھےجیسے جن درس گاہوں سے امام غزالی ، امام رازی، امام تیمیہ جیسے جلیل القدر علماء نکلے انہیں در س گاہوں سے جابر بن حیاۃ، فارابی، ابن القیم ، ابو علی سینا ، البیرونی وغیرہ وغیرہ جیسے بلند پایہ سائنسدان اورمحقق بھی پیدا ہوئے ۔ اگر خدا اعتمادی اور خود اعتمادی پیداہوئے توآج بھی مسلمانوں کے وہ دور واپس آسکتے ہیں ۔ آج بھی مغرب کی لائبریری ہماری تصانیف سے بھری پڑی ہیں

   مسلمان طلبہ وطالبات کے تعلیم کے تئیں زبان کا مسئلہ بھی ایک اہم مسئلہ ہے یعنی یہ کہ بچوں کوتعلیم کس زبان میں دی جائے ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ مادری زبان کے سوا کسی اور زبان کو تعلیم کا ذریعہ بنانا نہ صرف غیر فطری ہے بلکہ دینی نشو نما کے لیے مضرہے ۔ مادری زبان کے ذریعہ ہی خیالات میں صحت اور صفائی پیدا ہوسکتی ہے ۔ ہماری  مادری زبان تو خاص اردو ہے اور اردوکے ساتھ حکومت کا جو رویہ ہے وہ ہم سب کومعلوم ہے ۔ لہٰذا ہمارے سامنے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ مسلمان طلبہ وطالبات کو اردو زبان میں کس طرح تعلیم دی جائے آج کل نصابی کتاب کا اردو میں حصول کس حد تک مشکل ہے

 تعلیمی اداروں میں نہ تواسلام نظر آتا ہے اورنہ  اردو میں تعلیم دی جاتی ہے۔ توزبان ہے اورنہ اسلام (مذہب)اگروہاں کچھ ہے توصرف روزی روٹی کاذریعہ ۔پیٹ کی آگ بجھانے کا ایک ذریعہ۔ ان اداروں میں کام کرنے والوں  کی اکثریت اوران کو چلانے والے دونوں ابھی پیٹ سے اوپر نہیں اُٹھ سکے۔ دماغ ودل تک تو ان کی رسائی ہوہی نہیں سکتی۔ بہرحال مسلم طلبہ وطالبات کو اگر  مادری زبان میں تعلیم دی جائےتو ساتھ ہی ساتھ اُن کو ، انگریزی  اورعربی میں بھی مہارت حاصل کرنی ہوگی- اسلام کی زبان تو عربی ہے ا س کا سارا سرمایہ عربی میں ہے معارف  کی کنجی قرآن وحدیث ہے جوعربی میں ہے ۔ عربی کی واقفیت کے بغیر ہم دین سے کلی طور پر واقف نہیں ہوسکتے۔ اس طرح فی زمانہ انگریزی زبان جدید علوم کی کنجی ہے اگر ہم جدید علوم کے ماہر بننا چاہتے ہیں توانگریزی زبان ضرورت ہے ۔ اس طرح اگر دیکھا جائے تو ایک مسلم طالب علم کوسہ 3 لسانی فارمولہ پر عمل کرنا ہوگا یعنی عربی ، اردو ، اورانگریزی جویقیناً ایک امر مشکل ہے ماہرین تعلیم کو ایک ایسا نصاب تیار کرنا ہوگا جومسلم طلبہ وطالبات کی اس ضرورت کوپورا کرے ۔ اِن تینوں زبانوں  کے حصول کے لیے پرائمری ، اپرپرائمری اورمڈل اسکول تک کوئی دو زبان مکمل کردی جائیں  جس میں ایک مادری زبان ہو، ہائی اسکول تک  اِن کوتینوں زبانیں آجانا چاہیے کیونکہ چھٹی کلاس سے سبجکٹ میٹر آنا شروع ہوجاتا ہے

مسلمانوں  کواپنی نئ نسلوں کی تعلیم کے مسائل پر فوری طورپر نہایت مؤثر اور نتیجہ خیز  انداز میں اقدام کرنے کی ضرورت  ہے ۔ اس راہ میں ہلکی سی غفلت و لاپرواہی بھی آئندہ نسلوں کی مذہبی ، اخلاقی ، اقتصادی اور ثقافتی تباہی کا سبب ہوگی جس کی علامتیں صبح آزادی سے ہی واضع طور پر سامنے آرہی ہیں اور جب تک نظام تعلیم میں تبدیلی روننما نہیں ہوتی تب  تک ہمیں اپنی نی نسل کو حکما اور دانشور بزرگان جو جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی علوم سے بھی آراستہ ہوں اور اپنے عمل سے ایک نیک اور  مکمل انسان ثابت ہوتے ہوں ، وابستہ کرنا پڑے گا

اپنے ارد گرد نگاہ ڈالیں تو آپ کو ایسے دانشور اور نیک افراد کی زیادہ کمی نظر نہیں آے گی جو جدید علوم سے بھی آراستہ ہیں - خدارا ان سے خود بھی وابستگی اختیار کریں اور اپنی نسلوں کی ان سے وابستگی بھی یقینی بنائیں
 آئیے ایک نئے دور کا آغاز نئے جذبوں سے کریں -اللہ  تعالی  ہماری کوششوں میں کامیابی  دے اور ہمارےارادوں  میں پختگی عطا فرماتے ۔ آمین ثم آمین


Thursday, 3 May 2018

Truth to be accpeted

“When you find no solution to a problem, it's probably not a problem to be solved, but a truth to be accepted.”
جب کسی مسلۂ کا کوئی حل نہ مل رہا ہو ، تو غالباً اس جگہ حل تلاش کرنے کی نہیں سچ کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے
Omnibus

Monday, 30 April 2018

Optimism

رجائیت اور پر امید کا قائل ہونا ہے کامیابی کا راز ہے ، امید , اعتماد اور یقین کے بغیر کچھ حاصل نہیں ہوتا
Optimism is the faith that leads to achievement. Nothing can be done without hope and confidence. - Helen Keller.

Thursday, 12 April 2018

وہ باتیں جو صرف ہم مرد ہی سمجھ سکتے ہیں


جب کچھ زیادہ ہی ہرا ہونے لگے اور ہم کہیں ' مجھے اکیلا چھوڑ دو ' تو اس کا واقعی مطلب اکیلا چھوڑ دینا ہوتا ہے 


نہیں اس کا مطلب یہ ہرگز یہ نہیں کہ ہم کوئی نفسیاتی حربہ استمال کر رہے ہیں کہ ایسا کچھ کہنے سے کوئی فکر مند ہو کر 
  پیچھے پڑ جاے اور لازمی پوچھے 

نہیں ہم اس وقت کوئی مہان , مضبوط انسان نظر آنے کی کوشش بھی نہیں کررہے ہوتے ناہی ہم یہ پسند کرتے ہیں کہ آپ کو بے حس نظرآئیں ... یا آپ بے حس ہیں اس لئے بات نہیں کرنا چاہتے 

کیا آپ کو معلوم ہے ؟ ہم ایسا کیوں کرتے ہیں ؟

اس لئے کہ ہمیں میں سے اکثر کے لیے اس کا حل صرف وقت ہے 
بس ایک آدھ دن گزر جانے دیا جاے اور کچھ بھی اس کےآس پاس نا پھٹکے تو ٹھیک ہو جاے گا 
کیوں؟ ....اس لئے کہ ہمارے لئے  یہ علاج واقعی کام کرتا ہے 

یہ موثر  کارگرہونے کی بات ہے  ..یہی اب تک موثر علاج ہے اس لئے ایسے ہی ہونے دیں 

واقعیات سے ثابت ہوا ہے کہ مشہور نسوانیت کی علمبردار کرسٹینا سمرز نے ایک بار بتایا کہ ایک ٹاک شو کہ دوران ایک ہی حل طلب مسئلہ پر دیر تک لمبی بات کہ دوران اسکول کی لڑکیاں ڈپریشن اور تناؤ کا شکار ہو رہی تھیں جبکہ لڑکے اطمینان سے بات کرتے چلے جا رہے تھے 

جی ہاں ، یہ کبھی کبھی برا لگتا ہے جب  معاشرے میں مردوں کو کسی معملا میں سختی یا مضبوطی کا مظاہرہ کرنے والے کی طرح ہے لیا جاتا ہے عورتوں کو نہیں مگر یہ اتنا بھی برا نہیں کیونکہ ایسے خواتین بھی ہیں جو بات سنتی ہیں غور کرتی ہیں اور بہت اچھا مشورہ بھی دیتی ہیں مگر ایک دو ہی ایسی ہوتی ہیں 

اور یہ بات سمجھنا شائد اکثر خواتین کہ لیے مشکل ہوتا ہے کہ زخم  کو کریدنے بال کی کھال اتارنے سے علاج اکثر ممکن نہیں ہوتا بلکہ مرض اور بڑھنے کا خطرہ ہو جاتا ہے - یہ خاص طور پر ان بڑے مسائل میں اور بھی نا ممکن ہو جاتا ہے جہاں جلد از جلد کوئی موثر اور مضبوط علاج ضروری ہوتا ہے 

ہمارے جیون ساتھیوں کے لئے سب سے پریشان کن  صورت حال  تب ہو جاتی جب ہم واقعی اس مسئلہ پر بات کرنا چاہتے ہیں .....جی ہاں اور وہ بہت سمجھداری سے الجھن کے ساتھ  سوچتی ہیں ' لو اب یہ اس پر بات کرنا چاہتا ہے ؟ 

جی ہاں ...کبھی کبھی ہم بات کرنا بھی چاہتے ہیں ...ہا ہا ہا 

ذکر کرنے کی بات نہیں مگر یہ بہت ہی  برا محسوس ہوتا ہے جب وہ یہ سمجھنے لگتی ہیں کہ ہم بے حس اور سرد مزاج ہیں  بس اسی لیے ہم بات کرتے ہیں کہ انھیں اچھا لگتا ہے کہ ہماری مدد کریں 

ویسے ذاتی طور پر میرے خیال میں کسی بھی خاتون کی سب سے  ناقابل مزاحمت اور پر کشش خصوصیت اس کی یہ قابلیت ہے کہ وہ با آسانی آپ کے چہرے ، آنکھوں اور اٹھنے بیٹھنے کے انداز سے ہی بھامپ لے کہ کیا معامله درپیش ہے اور اچھی طرح سمجھتی ہو کہ آپ کب بات کرنا چاہتے ہیں اور کب نہیں 

مگر میں ایک بار پھر کہوں گا کہ ہم مرد جب یہ کہ دیتے ہیں کہ ' میں اس معامله میں بات نہیں کرنا چاہتا ' تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہوتا کہ ' تھوڑی اور کوشش کرو تو بتاؤں گا 

اس کا مطلب ہوتا ہے .. بس فلحال اس کو بھول جاؤ








Monday, 26 March 2018

سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے

وہ اس بار بھی  سفر کرتے ہوے کھڑکی سے باہر خوبصورت منظر سے لطف اندوز ہوتے ہوے  سوچ رہا تھا کہ  لوگ سفر سے کیوں گھبراتے ہیں اکثر لوگ سفر کو انگریزی  والا سفر کہ دیتے ہیں اتنا حسین منظر ہوتا ہے باہر دیکھنا آرام سے بس کے اندر - خود بھی ڈرائیو کریں تو کچھ دیر اتنے دلفریب منظر دیکھ کے کچھ دیر رک جانے کو دل چاہتا ہے کئی بار رکا بھی کچھ دیر ہی بس لطف اندوز ہو کر آگے چل دیا کیونکہ سفر زیادہ اھم ہے جس مقصد کے لئے سفر اختیار کیا وہ ضروری ہے چاہے کتنا بھی حسین منظر ہو یا کتنی حسین جگہ یا لوگ راستے میں مل جائیں چاہے کچھ بھی مزیدار کھانے کو ملے یا کتنی ہے اچھی چیزوں سے واسطہ پڑے سفر نہیں چھوڑا جا سکتا


ایسا ہی کرتے ہیں سب ہی شائد ہی کوئی ایسا ہوگا جو ٹھہر گیا اور سفر میں تاخیرکی ہو؟   مستقل طور پر  رک گیا ہو وہیں کا ہو گیا ہو؟ آگے سفر ترک کر دیا ہو؟  سب بہت اچھی طرح جانتے ہیں راستے کہ یہ نظارے یہ جگہیں چیزیں اور لوگ سفر سے زیادہ اھم نہیں جس مقصد کہ لئے سفر کر رہے ہیں اس کا پورا ہونا سب سےزیادہ
 اھم ہے

یہ سب تو بس دل بہلاوے کا سامان ہے سفر کو خوبصورت بناتا ہے یا کچھ آسان اور سہل کر دینا - اگر راستے میں اچھا کھانا  ملے کچھ اچھا سن لینے کو مل جاے کچھ اچھے لوگ جن سے اچھی بات ہو جاے کوئی مدد کر دے اس سے زیادہ کچھ نہیں -رکا نہیں جا سکتا سفر میں کسی قسم کا خلل یا تاخیر نہیں کی جا سکتی ان کی وجہ سے کچھ بھی ایسا نہیں کیا جانا چاہیے جس سے یہ سفر یہ مقصد متاثر ہو مشکل یاسست روی آ جاۓ

وہ سوچ رہا تھا یہ کونسی نئی بات ہے سب کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں  ایسا کوئی شائد ہی ہو جو  ایسے بے وقوفی کرے سفر چھوڑ دے یا  اس مقصد کومتاثر ہونے دے جس سے وہ جا رہا ہے
مگر  یہ کیا وجہ ے کے جس مقصد سے دنیا کا سفر اختیار کیا.... یہاں آے - اس کا کیا ہوگا؟ وہ سفر کیوں رک جاتا ہے راستے کے دلفریب نظاروں میں کھو کر یا لوگوں کی باتوں میں لگ کر یا راستے کی چیزوں میں گم ہو کر یہ عظیم مقصد جس کے لئے دنیا کا سفر اختیار  کیا ہے وہ کیوں رک جاتا ہے؟ - پھر عقلمندی کیا ہے؟ -پیسے جمع کرنا ؟ سامان  اکٹھا کرتے  رہنا ؟ راستے میں بیٹھ کرعالی شان گھر بنا کر سفر کو روک دینا یا بلکل ترک دینا ؟ بھول جانا کہ یہ سب کچھ تو اس عظیم سفر کو سہل اور خوبصورت بنا لینے کے سامان ہیں یہ  لوگ جن سے اتنا دل لگا لیا کے سفر بھول گئے, مقصد بھول  گئے ,  انکو تو اس سفر میں معاون ہونے کے لئے بنایا گیا تھا نہ کہ روک دینے کے لئے
یہ تو ایسے ہی ہے جیسے کوئی ادارہ اپنے ملازم کو کسی کام سے دوسرے شہر یا ملک روانہ کرے اور وہ ملازم وہیں کا ہو رہے یا وہاں کی رنگینیوں  میں گم ہو کر کام کو بھول چکا ہو - کیا یہ مجرمانہ غفلت نہیں ؟ 
عام طور پر کسی بھی قسم  کہ سفر کے لیے جتنے اہتمام ہوتے ہیں جنتی تیاری ہوتی ہے اوراپنے  مقاصد کے پورا ہونے کے لیے جتنا زورلگایا  جاتا ہے فکر کئی جاتی ہے اس میں سے کتا حصّہ اصل سفر کے انتظام میں لگتا ہے ؟

پھر سمجھدار با شعور زیرک کون ہے؟

بس یہی سوچتے ہوے وہ آخر منزل کی طرف رواں دواں رہاکہ 

Saturday, 17 March 2018

یہ بناسپتی بزرگ

جب ہم بیمار پڑتے ہیں تو دوائی  کھانے اور ڈاکٹر کا خیال آتا ہے علاج کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کبھی کبھی تو ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے تکلیف سے نجات  کی خاطر بڑے ہسپتال اور ڈاکٹر کی ضرورت ہوتی ہے خوب چکّر کاٹے جاتے ہیں 

کچھ لوگ تو ڈاکٹر کے پاس جانا فیشن کے طور پر یا ٹائم پاس کی خاطر بھی کرتے ہیں خاص طور پر خواتین جن کو بات کرنے کو کوئی نہیں ملتا یا بات سن نے والا دل جوئی کرنے والا یا ہمدردی کیئر کرنے والا چاہیے ہو تب   بھی ڈاکٹر کے پاس جانے کے لئے بیمار پڑ جاتی ہیں 

لیکن کبھی کسی نے ذہنی دباؤ تکلیف یا مستقل  الجھن یہاں تک کے شدید ذہنی تکلیف میں کسی دماغ کے ڈاکٹر کے پاس جانے کا سوچا ؟ بہت کم لوگ ایسا خیال کرتے ہیں کیونکہ یہاں تو سب ہی دماغی طور پر سب سے بہتر ہیں دوسرے بیمار ہیں وہ نہیں اگر نفسیاتی علاج کروانے جایئں گے تو لوگ کیا سوچیں گے پاگل ہے ؟

جبکہ آج کہ دور میں ہر شخص ذہنی مریض بنتا جا رہا ہے کوئی کسی پریشانی کا شکار ہے کسی پر ذہنی دباؤ بہت زیادہ ہے کسی کو ڈپریشن ہے تو کوئی شدید غصہ آ جانے کے مرض میں مبتلا ہے 

کہتے ہیں پاگل وہ ہوتا ہے جو ایک ہی کام کو بار بار اسی طریقے سے کرتا ہے اور ہر بار مختلف نتائج کی امید کرتا ہے اور عقلمند وہ نہیں ہوتا جس کہ پاس ہر جواب ہو عقلمند وہ ہے جو جواب حاصل کرنے کی کوہشش پورے صبر کے ساتھ جاری
رکھتا ہے

پرانے وقتوں میں کہا جاتا ہے لوگ اپنے سوال پریشانیاں اور الجھنیں لے کر یا بس دلجوئی کی تلاش میں  کسی بڑے بوڑھے بزرگ کے پاس جاتے تھے اور ان سے حل مل جاتا تھا تو اس پر عمل کر تے مگر  اب تو بزرگان بھی شائد بناسپتی  آ گئے ہیں جن سے نو جوان اور بچے صرف بچ کہ نکل جاتے ہیں تربیت کہ نام پر  اپنا الو سیدھا کرنے والے جو خود ان باتوں پر بلکل عمل نہیں کرتے جن کا پرچار اور ہدایت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں یہ تو کل کہ بچے ہیں ان کو کیا پتا چلے گا 
جبکہ پتا چلنے کہ لئے ایک چھوٹی سی بھول چوک کافی ہوتی ہے اور ضرورت سے زائدہ خود اعتمادی کا مظاہرہ بہت ہوتا ہے اور ان ہی کی وجہ سے وہ جو واقعی بھلا چاہتے ہیں کچھ خدمت کرنے کے لئے بےچین ور بیقرار ہوتے ہیں واقعی درد اور فکر سے ایک لمبا وقت اپنے بلند نمونے کہ بزرگان اور آقاؤں کہ زیر اثر گزارا ہوتا ہے  اور بچوں کی  دلجوئی ہمدردی اور ہمت افزائی ان کا کام ہوتا ہے 

یہ بناسپتی  بزرگ ان کا بھی بھروسہ اور  یقین کرنا مشکل کر دیتے ہیں  اور یہ نو جوان اور بچے ان سے بھی بھاگ جاتے ہیں یا بچ کہ نکلتے ہیں کہ یہ بھی ویسے ہی بزرگ ہیں جن سے یہ معاشرہ بھرا پڑا ہے 

میں سوچتا ہوں یہ پریشان حال کہاں جائیں گے ؟ جو دماغی امراض کا شکار ہوتے جا رہے ہیں - ڈاکٹر کہ پاس جاتےہوۓ گھبراتے ہیں کے لوگ پاگل سمجھیں گے پھر فیس بھی دینی ہوگی اور بڑے بوڑھے آج کل بناسپتی آ رہے ہیں ٢ نمبر 

Sunday, 11 March 2018

Unlearn

اکیسویں صدی کے جاہل وہ نہیں ہونگے جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے - بلکہ وہ ہونگے جو نیا سیکھنے کی خاطر پہلے 
والا 'ان سیکھا ' نہیں کر سکتے اور پھر سے نہیں سیکھ سکتے - الیون ٹوفلر 
Omnibus