Thursday, 4 May 2017

بھوک

بھوکا کبھی نہیں جھجھکتا نہ پوچھتا ہے نہ ہی پیاسا  کبھی جھجکتا یا سوچتا ہے شرط صرف واقعی بھوکا پیاسا ہونے کی ہوتی ہے 
لوگوں کی ایک قسم وہ بھی ہوتی ہے جو اتنی نا سمجھ ہے کہ جن کو  پتہ ہی  نہیں چلتا کہ  بھوک لگی ہے یا پیاس بس چھوٹےسے بچے کی طرح روتے رہتے ہیں پریشان بے چین بے سکون زندگی ہونے کے با وجود بھی سمجھ نہیں آتی کے انکو پیاس لگی ہے یا بھوک 
 اور یہ پیاس اور بھوک اپنی اصل پہچان کی ہوتی ہے اصل انسان بن جانے کی پیاس اور بھوک جو صرف اور صرف دانائی ملنے سے بنتا ہے ادراک ملنے سے ورنہ یہ خالی خولی کی علمیت کسی کام کی نہیں ہوتی صرف علم بے چینی پیدا کرتا ہے
پریشانی اضطراب جب تک دانائی اور ادراک حاصل نہ ہو

اور ادراک ملتا ہے علم کو عمل میں بدل دینے سے علم کا عملی اظہار کرنے اور نمونہ بن جانے سے 

بار بار کا عمل بار بار کا عملی اظہار علم کو دھیرے دھیرے دانائی اور ادراک میں بدل دیتا ہے وقت لگتا ہے اور پھر انسان دانائی حاصل کر کے اپنی پیاس اور بھوک مٹا تا چلا جاتا ہے تسکین کہ اس سفر میں اور آگے بڑھتا اور نشو نما پاتا ہے بڑاہو جاتا ہے صرف بوڑھا نہیں ہوتا 

 تسکین  کہ اس سفر کو آسان بنا نے اور رفتار تیز کرنے کی  خاطر بہت جتن  کرنے لگتا ہے اور آخر آخر خالق کو اس کی اس کوشش اس جستجو پہ  پیار آ جاتا ہے اور وہ ایک رہ نما بھیجتا ہے رہنما وہ روحانی رشتہ قائم کرتا ہے کہ جس کی بدولت دانائی اور ادراک تیزی سے اس کو ملنے لگتی ہے وہ طریقے وہ عمل سکھاتا ہے جس سے دانائی کا سفر سہل اور تیز رفتار ہو جاتا ہے اور انسان سہی سمت میں سفر کرنے لگتا ہے 

یہ روحانی رشتہ انسان کو اوپر ہی اوپر لے جاتا ہے کیونکہ  باپ تو انسان کو اوپر سے دنیا میں نیچے لاتا ہے اور روحانی باپ ادراک اور دانائی سے اوپر لے جاتا ہے اور انسان صرف بوڑھا نہیں بڑا ہو جاتا ہے ....بڑا انسان  

سوچو غور کرو کیا بےچینی محسوس ہوتی ہے ؟ بے سکونی اطمینان کا نہ ہونا دانائی کی بھوک اور ادراک کی ؛ پیاس ہے اور اس کو مٹانے کا صرف ایک راستہ ہے..... عمل 
Post a Comment